| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
December 13 شبِ فراقذکر شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ميری طرح کسی سےمحبت اسے بھی تھی مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی ديد کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی اس رات دير تک وہ رہا محو گفتگو
مصروف ميں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی
سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانياں
شايد رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی مجھ سے بچھڑ کھ شھر میں گھل مل گیا وہ شخص
حالانکہ شھر بھر سے رفاقت اسے بھی تھی وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا آدھی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی تنہا ہوا سفر سے تو مجھ پر کھلا يہ بھيد
سائے سے پيار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی Comments (5)
TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2501.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|