| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
December 12 حرف تازہ، نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہےحرف تازہ، نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے ایک لمحے کی توجّہ نہیں حاصل اُس کی اور یہ دل کہ اُسے حد سے سوا چاہتا ہے اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ گُل کو معلوم ہے کیا دست صبا چاہتا ہے ریت ہی ریت ہے اس دل میں مُسافر میرے اور یہ صحرا تیرا نقش کف پا چاھتا ہے یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگی اور کُچھ روز کہ وہ شوخ، کُھلا چاہتا ہے رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکن رات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے تیرے پیمانے میں اب گردش نہیں باقی، ساقی اور تیری بزم سے اب کوئی اُٹھا چاہتا ہے TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2499.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|