| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
August 24 تم کو معلوم ہے؟ تم کو معلوم ہے؟
میری راتیں تیری یادوں سے سجی رہتی ہیں میری سانسیں تیری خوشبو میں بسی رہتی ہیں میری آنکھوں میں تیرا سپنا سجا رہتا ہے
ہاں میرے دل میں تیرا عکس بسا رہتا ہے اس طرح میرے دل کے بہت پاس ہو تم
جس طرح پاس ہی شہ رگ کے خدا رہتا ہے تم کو معلوم بھی شاید یہ کبھی ہو کہ نہ ہو میرے آنگن میںلگے پھول گواہی دیں گے
میں نے عرصے سے کسی پھول کو دیکھا بھی نہیں تجھ کو سوچا ہے تو پھر تجھ کو ہی سوچا ہے فقط تیرے سوا کسی اور کو سوچا بھی نہیں تم کو معلو م بھی شاید یہ کبھی ہو کہ نہ ہو امجد اسلام امجد Comments (1)
TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2391.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|