| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
June 13 ہراسہراس
تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر میرے تخئیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے یوں اچانک ترے عارض کا خیال آتا ہے جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے تیرے پیراہنِ رنگیں کی جنوں خیز مہک خواب بن بن کے مرے ذہن میں لہراتی ہے رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے ترے انفاس، ترے جسم کی آنچ آتی ہے میں سلگتے ہوئے رازوں کو عیاں تو کردوں لیکن ان رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے رات کے خواب اجالے میں بیاں تو کردوں ان حسیں خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے تیری سانسوں کی تھکن، تیری نگاہوں کا سکوت درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں وہ تبسم، وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو سوچتا ہوں کہ تجھے مل کے میں جس سوچ میں ہوں پہلے اس سوچ کا مقسوم سمجھ لوں تو کہوں میں ترے شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوں تیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مرے تھرّا جائیں اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں اور ترے ریشمی آنچل کا کنارا نہ ملے ساحر لدھیانوی TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2258.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|