| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
May 24 اندازانداز
بے نام وفا پہ کٹ مرنا، انداز نہيں فرزانوں کے جو سر ميں سودا رکھتے ہيں، يہ کام ہيں ان ديوانوں کے ماؤں نے تمہيں آزاد جنا، وہ زنجيريں کيوں پہنائيں؟
قيدی ہيں جہاں آزادی کے، در توڑو ان زندانوں کے کشمير، فلسطين، چيچنيا کي کوئی تو روداد سنا!
جو زخمی دل کے ٹکڑے ہيں، الفاظ نہيں افسانوں کے اے مومن ديکھ بصيرت سے، طاغوت کے دام سنہری ہيں
سب دھوکے ہيں اور چاليں ہيں، سمجھوتے ان شيطانوں کے دو چار تو مل ہی جائيں گے، اس بزم سے ہم مايوس نہيں
جو راکھ پڑی ہے اس ميں بھی، آثار ہيں کچھ پروانوں کے اے باطل تجھ کو ميداں ميں، ہم ديوانے بتلا ديں گے
تم تيغ چلانا کيا جانو، تم رسيا ہو ميخانوں کے اب جيش ہمارا طيش ميں ہے، سيلاب کی صورت آئے گا
سب بام و در بہہ جائيں گے، باطل کے ان ايوانوں کے محمّد انور جميل TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2251.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|