| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
April 04 یوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرویوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرو یوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرو، کوئ شام گھر بھی رہا کرو کوئ ہاتھ بھی نہ ملائے گا، جو گلے مِلوگے تپاک سے ابھی راہ میں کئ موڑ ھیں، کوئ آئیگا کوئ جائیگا مجھے اشتہار سی لگتی ھیں، یہ محبّتوں کی کہانیاں کبھی حسن ِ پردہ نشیں بھی ہو زرا عاشِقانہ لباس میں یہ خِزاں کی زَرد سی شام میں، جو اُداس پیڑ کے پاس ھے نھیں بے حجاب وہ چاند سا، کہ نظر کا کوئ اثر نھیں یوں ھی بے سبّب نہ پھرا کرو، کوئ شام گھر بھی رہا کرو بشیر بدر بشیر بدر کی آواز میں یہ غزل آپ یہاں سے سُن سکھتے ہیں Comments (4)
TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2225.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|