| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
March 14 فرارفرار
اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں اپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے میرے ماضی کو اندھیروں میں دبا رہنے دو مرا ماضی مری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں میری امیدوں کا حاصل مری کاوش کاصلہ ایک بے نام اذیّت کے سوا کچھ بھی نہیں کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لے کر میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر کتنی بے ربط تمناؤں کے مبہم سائے اپنے خوابوں میں بسائے تھے کسی کی خاطر مجھ سے اب میری محبت کے فسانے نہ کہو مجھ کو کہنے دو کہ میں نے انہیں چاہا ہی نہیں اور وہ مست نگاہیں جو مجھے بھول گئیں میں نے ان مست نگاہوں کو سراہا ہی نہیں مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتاہوں عشق ناکام سہی، زندگی ناکام نہیں ان کو اپنانے کی خواہش انہیں پانے کی طلب شوقِ بے کار سہی، سعئ غم انجام نہیں وہی گیسو، وہی نظریں ، وہی عارض، وہی جسم میں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیں وہ کنول جن کو کبھی ان کے لیے کھلنا تھا ان کی نظروں سے بہت دور بھی کھل سکتے ہیں ساحر لدھیانوی Comments (3)
TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2154.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|