|
سندھ کے صوفیائے کرام کے کلام میں امن کا پیغام
اکادمی ادبیات پاکستان صوبہ سندھ اور خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کراچی کے اشتراک سے "سندھ کے صوفیائے کرام کے کلام میں امن کا پیغام" کی عنوان سے ایک علمی سیمینار خانہ فرہنگ جہموریہ اسلامی ایران کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ سندھ یونیورسٹی کے وا ئس چانسلر جناب مظہر الحق صدیقی نے اس سیمینار کی صدارت کی جبکہ ممتاز اسکالر ڈاکٹر عبدالغفار سومرو مھمان خصوصی تھے۔
اکادمی ادبیات پاکستان صوبہ سندھ کے ریزیڈنٹ ڈا ئیکٹر آغا نورمحمد پٹھان نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ اسلام کا پیغام امن و مساوات سرزمین سندھ میں ۹۳ ہجری میں پہنچ چکا تھا اور یہاں قدیم ذات پات کے طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوا اور ہمارے صوفیائے سندھ میں وحدت انسانیت کا عالمگیر پیغام پہنچایا جس کی مثال آج بھی شاہ عبداللطیف بھٹا ئی ، سچل سرمست، صوفی شاہ عنایت اور اڈیرولعل کی خانقاہیں موجود ہیں جہاں تمام مسالک اورمذاہب کے لوگ فیض حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پانچ ھزار سالہ پرانے آثار قدیمہ سے انسانی تہذیب کے جو آثار دریافت ہو ئے ہیں ان میں کو ئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا ۔ اس لئے یہ خطہ امن پسند اور محبت کا داعی رہا ہے۔
خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کراچی کے ڈا ئریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مہدی توسلی صاحب نے ایران کے معروف عرفانی شاعر"" حافظ شیرازی کےکلام پر قرآن مجیدکے اثرات"کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوںنے کہا کہ سندھ میںصوفی شعرا ئے کرام کے کلام کے جاودانی ہونےکی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان شعراء نے اپنے اشعار میں قرآن سے رہنما ئی حاصل کی ہے۔
سندھ یونیورسٹی کے وا ئس چانسلر جناب مظہر الحق صدیقی صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ سندھ کے صوفیا ئے کرام نے انسان کی عظمت اور انسان دوستی کو اپنے کلام کا مرکز بنایا اور ان عنوانات کی اہمیت کو قرآن مجید اور احادیث کے ذریعےاجاگر کیا ہے۔
اگر پورے سندھ کے شعرا ئےکرام کے کلام کا مطالعہ کیاجا ئے تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ سب صوفیا ئے کرام ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔سیمنار کے مہمان خصوصی ڈاکٹر عبدالغفار سومرو صاحب نے "شاہ عبدالکریم بلڑی کی شاعری پر مقالہ پیش کیا ۔ انہوں نے شاہ عبدالکریم بلڑی کی شاعری کے بارے میں بتایا کہ ان کا شاعری کا سرچشمہ قرآن مجید ہے ۔ انہوںنے شاہ عبدالکریم بلڑی کی شاعری پر قرآن پاک کے اثرات کے مختلف حوالے بھی پیش کیئے۔
معروف دانشور اور کالم نگار جناب ڈاکٹر معین قریشی صاحب نے " شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام میں قرآن مجید کی جھلکیاں" کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے شاہ صاحب کے کلام میں قرآنی آیات کی جھلکیوں کے مختلف نمونے پیش کئے۔انہوں نے کہاکہ شاہ عبداللطیف بنیادی طور پر ایک صوفی شاعر ہیں ، چنانچہ ان کے کلام میں آیات قرآنی کی جھلکیاں موجود ہیں ۔
جناب ڈاکٹر بشیر احمد شاد نے "سچل سرمست کے کلام میں آفاقیت" کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے مقالے میں سچل سرمست کی شخصیت اور ان کے پیغام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت با کمال اور ان کاپیغام آفاقی ہے۔ آپ ایک باعمل عالم دین اور حافظ قرآن تھے۔ آپکے کلام کے مرکزی موضوعات میں توحید ، وحدت الوجود، نفی اثبات، فناو بقاء خیرو شراور باطن و ظاہر و غیرہ شامل ہیں جناب ڈاکٹر عفان سلجوق نے سندھی ادبیات پر اسلامی ثقافت کے اثرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھی ادبیات میں تا ثیر گذاری کے حوالے سے قرآن شریف کا بنیادی کردار رہا ہے۔ کم و بیش سندھ کے تمام صوفی شعراء کے کلام میں اسلام کے گہرے اثرات موجود ہیں۔
انہوں نے کہاکہ برصغیر میں قرآن مجید کا پہلا فارسی ترجمہ بھی شاھ ولی اللہ دھلوی سے پہلے سندھ کی سرزمین میں انجام پایا تھا۔ ممتاز شاعر پروفیسر یعقوب "ثاقب" آریسر نے شھید عبدالرحیم گروھڑی کی شاعری اور ڈاکٹر محمد علی مانجھی نے میوں شاہ عنایت رضوی کے کلام پر اپنے مقالے پڑھے۔ |