Tarique's profileTarique kamalBlogLists Tools Help
    February 21

    نا کہو

    نا کہو

     

    ،بھیگی سی اک رات یہ لے آئی کیا ساتھ یہ
    ،دھڑکنیں جو ہمیں کہنے لگی ہیں
    ،خاموشی کے درمیاں کب چاہی تھی بات یہ
    دھڑکنیں جو ہمیں کہنے لگی ہیں۔
    ،نا کہو نا سنو
    خاموشی گفتگو ہونے لگی ہے۔

    ،تابیریں لے آئوں میں تم سپنے دے دو مجھے
    ،ایسا کیا ہے اتنے کیوں اچھے لگتے ہو مجھے
    ،تم ہی جیون کی آرزو
    ،تم ہی جیون کی آرزو
    ،نا کہو نا سنو
    ،خاموشی گفتگو ہونے لگی ہے
    زندگی خواب میں کھونے لگی ہے

    ،ہر آہٹ پہ دھڑکے دل کروٹ کروٹ رات ڈھلے
    ،چاروں اور چہرا تیرا یوں سپنوں کے دیپ جلائے
    ،سپنے ہیں اپنے پیار کے
    ،سپنے ہیں اپنے پیار کے

    ،نا کہو نا سنو
    ،خاموشی گفتگو ہونے لگی ہے
    زندگی خواب میں کھونے لگی ہے۔

    ،بھیگی سی اک رات یہ لے آئی کیا ساتھ یہ
    ،دھڑکنیں جو ہمیں کہنے لگی ہیں
    ،خاموشی کے درمیاں کب چاہی تھی بات یہ
    دھڑکنیں جو ہمیں کہنے لگی ہیں

    Comments (2)

    Please wait...
    Sorry, the comment you entered is too long. Please shorten it.
    You didn't enter anything. Please try again.
    Sorry, we can't add your comment right now. Please try again later.
    To add a comment, you need permission from your parent. Ask for permission
    Your parent has turned off comments.
    Sorry, we can't delete your comment right now. Please try again later.
    You've exceeded the maximum number of comments that can be left in one day. Please try again in 24 hours.
    Your account has had the ability to leave comments disabled because our systems indicate that you may be spamming other users. If you believe that your account has been disabled in error please contact Windows Live support.
    Complete the security check below to finish leaving your comment.
    The characters you type in the security check must match the characters in the picture or audio.

    To add a comment, sign in with your Windows Live ID (if you use Hotmail, Messenger, or Xbox LIVE, you have a Windows Live ID). Sign in


    Don't have a Windows Live ID? Sign up

    Picture of Anonymous
    Zeenat wrote:

    ''مجھے صندل کر دے''(وصی شاہ)
    اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
    میں کہ صدیوں سے ادھو راہوں مکمل کر دو
    نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
    اس قدر ٹوٹ کے چاہوں مجھے پاگل کر دو
    گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
    انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
    جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
    اپنے گھر کے کسی کونے میں لگا دے مجھ کو
    روٹھنا تیرا میری جان لیے جاتا ہے
    ایسے ناراض نہ ہو ہنس کے دکھا دے مجھ کو
    تم ہتھیلی کو میرے پیار کی مہندی سے رنگو
    اپنی آنکھوں میں میرے نام کا کاجل کر دو
    اس کے سائے میں میرے خواب دھک اٹھیں گے
    مرے چہرے پہ مہکتا ہوا آنچل کردو
    دھوپ ہی دھوپ ہو ٹوٹ کے برسو مجھ پر
    اس قدر ٹوٹ کے برسو میری روح میں جل تھل کردو

    2 Mar.
    Picture of Anonymous
    Zeenat wrote:




    کاش، میں تیرے حسین ہاتھھ کا کنگن ہوتا
    تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے ارمان کے ساتھ
    اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھکو
    اور بے تابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں
    تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھکو
    میں تیرے ہاتھھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا
    جب کبھی موڈ میں آکر مجھے چوما کرتی
    تیرے ہونٹوں کی میںَ حدتِ سے دہک سا جاتا
    کچھ نیہں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
    کاش میں تیرے حسین ہاتھھ کا کنگن ہوتا ،
    2 Mar.

    Trackbacks

    The trackback URL for this entry is:
    http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2128.trak
    Weblogs that reference this entry
    • None