| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
December 29 منیر نیازی کی یاد میںمنیر نیازی کی یاد میں
محبت اب نہیں ہوگی
ستارے جو دمکتے ھیں
کسی کی چشم ِحیراں میں ملاقاتیں جو ہوتی ھیں، جمال ِاَبر و بَاراں میں، یہ نا آباد وقتوں میں، دل ِناشاد میں ہوگی محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی گزر جائیں گے جب یہ دن یہ اُن کی یاد میں ہوگی ھمیشہ دیر کردیتا ہوں میں
ھمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئ وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ھمیشہ دیر کردیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اسکی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ھمیشہ دیر کردیتا ہوں میں بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کِسی کو یاد رکھنا ہو کِسی کو بھول جانا ہو ھمیشہ دیر کردیتا ہوں میں کِسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جاکے یہ بتانا ہو ھمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
منیر نیازی عام زندگی میں بے ساختہ جس طرح کی باتیں کرتے رہتے تھے اگر انہیں ریکارڈ کر کے بعد میں تحریری شکل دے دی جاتی تو اقوال زریں کا ایک خزانہ منظر عام پر آجاتا اور یہ مجموعہ شاید ان کی شعری کلیات سے زیادہ مقبول ہوجاتا
منیر نیازی
Comments (3)
TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!2073.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|