| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
December 24 لبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميںلبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں
لبوں ميں آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی ميں غزل کہنا بھی اب تو ہو گيا دشوار سردی ميں محلے بھر کے بچوں نے دھکيلا صبح دم اس کو
مگر ہوتی نہيں اسٹارٹ اپنی کار سردی ميں مئی اور جون کی گرمی ميں جو دلبر کو لکھا تھا
اسی خط کا جواب آيا ہے آخرکار سردی ميں دوا دے دے کے کھانسی اور نزلے کی مريضوں کو
معالج خود بچارے پڑ گئے بيمار سردی ميں کئی اہل نظر اس کو بھی ڈسکو کی ادا سمجھے
بچارا کپکپايا جب کوئی فنکار سردی ميں يہی تو چوريوں اور وارداتوں کا زمانہ ہے
کہ بيٹھے تاپتے ہيں آگ پہريدار سردی ميں لہو کو اس طرح اب گرم رکھتا ہے مرا شاہيں
کبھی چائے، کبھی سگريٹ، کبھی نسوار سردی ميں سرفراز شاہد Comments (1)
TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!1964.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|