| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
|
December 20 کبھی کبھیکبھی کبھی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی عجب نہ تھا کہ میں بے گانۂ الم ہو کر ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا ترا گداز بدن، تیری نیم باز آنکھیں انہیں حسین فسانوں میں محو ہو رہتا پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے کہ تو نہیں ترا غم، تری جستجو بھی نہیں گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں حیات و موت کے پرہول خارزاروں میں نہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری انہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یونہی کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے Comments (4)
TrackbacksThe trackback URL for this entry is: http://tariquekamal.spaces.live.com/blog/cns!DE813EDB2222AA77!1963.trak Weblogs that reference this entry
|
|
|