Tarique 的个人资料Tarique kamal日志列表 工具 帮助
4月25日

تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں



 تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں

تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں
ناراض نہ ہو مسکراو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں

ميں تو اک بنجر زمين کي مانند ہوں کاشی
کہيں اور پيار کا پيڑ لگاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں

ميں تو بکھرا ہوں تمہيں بھی بکھير دوں گا
جاو، کہيں او رقسمت آزماو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں

ميں ويران ہوں مجھے آباد کرنے کی کوشش نہ کرو
تم اپنا آشيانہ سجاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں

ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے
مجھے دل سے نہ لگاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں

ميں تو غموں کا چراغ ہوں مجھے روشن نہ کرنا
کہيں جل نہ جاو، سنبھل جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں

ميرے چاروں اطراف موت منڈلاتي ہے رات دن
ميرے قريب نہ آو، پلٹ جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں



4月2日

سب بیکار ہے

کہو مجھ سے محبت ہے

 

محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے !
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
ا سے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقین کی آخر ی حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو !
نگاہوں سے ٹپکتی ہو ‘ لہو میں جگمگاتی ہو !
ہزاروں طرح کے دلکش ‘ حسیں ہالے بناتی ہو !
ا سے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بار ہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے !
محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑ نے کی گھڑ ی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘
کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘
تمہیں مجھ سے محبت ہے
سمندر سے کہیں گہری ‘ستاروں سے سوا روشن
پہاڑوں کی طرح قائم ‘ ہوا ئوں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں ‘ وفا کے استعار ے ہیں ہمارے ہیں
ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں سنہر ا دن نکلتا ہے
محبت جس طرف جائے ‘ زمانہ ساتھ چلتا ہے ‘‘
کچھ ایسی بے سکو نی ہے وفا کی سر زمیوں میں
کہ جو اہل محبت کی سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو‘ کہ جیسے ہاتھ میں پاراکہ جیسے شام کاتارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں ر ہتی ہے ‘
گماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے الفت کا !
یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خد شوں میں رہتی ہے ‘
محبت کے مسافر زند گی جب کا ٹ چکتے ہیں
تھکن کی کر چیاں چنتے ‘ وفا کی اجر کیں پہنے
سمے کی رہگزر کی آخری سر حد پہ رکتے ہیں
تمہیں مجھ سے محبت ہے
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھا م کر
دھیرے سے کہتا ہے
’’یہ سچ ہے نا !
ہماری زند گی اک دو سرے کے نام لکھی تھی !
دھند لکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے
ا سی کا نام چاہت ہے !
تمہیں مجھ سے محبت تھی
تمہیں مجھ سے محبت ہے !!‘‘
محبت کی طبعیت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے !
 
 
امجد اسلام امجد

یہاں سے آپ سُن سکھتے ہیں واقعی پڑھنے سے زیادہ آپکو سننے کا لطف آئیگا
 
********************************************************
سب بیکار ہے اسکو کچھ اس نظر سے بھی دیکھ لیں
 
********************************************************

مُحبت جھوٹ لگتی ہے مُجھے

 
 اک کھوکھلا جذبہ
جسے اظہار کی ہر وقت خواہش ہو
کہے جانے کی سُننے کی
جسے ہر پل ضرورت ہو
“مُجھے تم سے مُحبت ہے “
نہ جانے روز کتنے لوگ اس جُملے کو سنُنے کے لیئے
بیدار ہوتے ہیں
یہ ایسا جھوٹ ہے جس کا سحر صدیوں سے طاری ہے
مگر جاناں
مُحبت جب کبھی اظہار کو ترسے
کوئی تُم سے اگر کہہ دے
“مُجھے تم سے مُحبت ہے ‘‘
تو اُسکی بات مت سُننا
مُحبت روح سے پھوٹے
مُحبت عکس بن جائے
تو تُم کو پھر یقیں آئے
کہ میں نے سچ کہا تُم سے
مُحبت روح بن جائے
تو پھر اُسکا یقیں کرنا
وگرنا ایک جُملہ کوئی کتنی بار دُہرائے
'کہے جائے ‘ نہی سُننا
'مُحبت جھوٹ ہے جاناں

اگر اظہار کی اسکو ضرورت ہے