| Tarique 的个人资料Tarique kamal日志列表 | 帮助 |
|
4月30日 .NET Framework 3.5 CertificationsIf there is one thing you should know about Visual Studio 2008 certifications... it is that there are three things you should know.
Four. Four things you should know. More.... Microsoft just published a lot of pages that give details about all of the
above, including the upgrade paths from VS2005 that many of you have
been asking about. Start on the Visual Studio 2008 certification landing page
-- follow the links to descriptions for the MCTS and MCPD certs, and
requirements for each. Let us know if something is not clear... If you want to go right to the upgrade info, see upgrade paths from Visual Studio 2005 4月29日 عرب دنیا کی نئی آواز۔ نیماہ اسمٰعیل نواب
وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئی جو مکہ معظمہ کے قدیم خاندانوں میں ایک
منفرد اعزاز کا حامل خاندان سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اٹھان ان گلیوں میں ہوئی
جن گلیوں میں خدا کی نشانیوں کا نزول ہوا۔ اس کے والد اسمٰعیل نواب عرب
دنیا کے ایک نامور اسکالر ہیں۔ اسمٰعیل نواب نے اپنی بیٹی کو نیند کے لئے
لوریاں یا نانی کی کہانیاں نہیں سنائیں بلکہ وہ ابھی 8 سال کی ہی تھی کہ
اس کے والد نے سونے سے پہلے اسے شیکسپیئر کے ڈرامے پڑھ کر سنائے۔ پھر اس
نے اپنے شہر مکہ معظمہ کے ماضی و حال کے بارے میں اس شہر کے رسوم ورواج
اور رہن سہن کے بارے میں ایک ولندیزی مستشرق کا احوال پڑھا۔ پھر وہ پڑھتی
چلی گئی۔ اس نے عرب دنیا کو چونکا دینے والی آواز سنی، یہ آواز محمود
درویش کی تھی۔ اس کے ساتھ اس نے چلی کے پابلونرودا، امریکہ کے مقامی (ریڈ
انڈین) شاعر جوئے ہارجو، افریقی شاعر امیری باراکہ، امریکی شاعر اسٹینلے
کینٹیز، جین ہرشفیلڈ، ایڈرین رچ، ڈونالڈہال اور جین کینیون کو پڑھنا شروع
کیا۔ اس نے عرب دنیا کے کلاسیکی ادب سے اپنی روح کو سرشار کرنے کے بعد
عالمی ادب کی ایک سنجیدہ قاری ہونے کے طور پر اپنے اندر ایک حیرت انگیز
توانائی محسوس کی اور پھر وہ خود ایک شاعرہ بن گئی۔ اب نیماہ اسمٰعیل نواب
عرب دنیا کی ایک انتہائی طاقتور آواز ہے۔ اس کے اندر فکر و دانش کا ایک
منہ زور سیلاب بہتا ہے اور وہ اپنی شاعری میں پوری طاقت کے ساتھ اپنے دل
ودماغ میں اٹھنے والے مدوجزر کا اظہار کرتی ہے۔
عرب شاعری ہمیشہ رومانی اور رجزئیہ شاعری رہی ہے۔ عشق اور جنگ عرب شاعری
کے مخصوص موضوعات رہے ہیں۔ قصیدہ گوئی بھی عرب شاعری کا ایک بڑا موضوع اور
انوکھا اسلوب سخن رہا ہے مگر نیماہ اسمٰعیل نواب نے سنجیدہ، باوقار اور
طاقتور احتجاج کو اپنا مستقل موضوع بنا لیا ہے۔ اس نے عرب دنیا کی نئی
فکر، نئی تہذیبی روش، نئے عہد کی نئی محرومیوں اور نئے عرب انسان سے
مکالمے کے نئے تقاضے کو اظہار کا ایک نیا آہنگ اور ایک نیا اسلوب دیا ہے۔
نیماہ اسمٰعیل نواب نے عرب دنیا کو جدید دور کی تمام اقوام کے ساتھ ہم رنگ
و ہم آہنگ کر دیا۔ اس کی نظمیں ایک مخصوص ردھم کے ساتھ اپنا آغاز کرتی ہیں
اور پھر دلآویز لفظیات کے اعجاز کو سموتے ہوئے رقص کرتے ہوئے آگے بڑھتی
ہیں۔ گویا اس کی نظمیں احتجاج کرتی، دف بجاتی اور لفظوں کی ترتیب و تنظیم
کرتی ہوئی رقاصائیں ہیں جو محض ہیجان پیدا نہیں کرتیں اور نہ ہی داسیاں بن
کر بِنتی کرتی ہیں بلکہ وہ اپنے ہر انداز سے اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔
نیما اسمٰعیل نواب کی ایک نظم ”مہد سے لحد تک“ میں اس کے احتجاج کا انداز
ملاحظہ کیجئے۔ رحم مادر سے قبر تک ایک پوری قوم ناپسندیدہ قرار دے دی گئی رحم مادر سے قبر تک مظلوم و محکوم عہدِ جبر کے خاتمے کیلئے چیختا ہے سلسلہ درسلسلہ قتل عام، تشدد اور جبر استبداد کے خاتمے کیلئے توہین و اہانت اور شدید حبس زدہ دباؤ کے خاتمے کیلئے بچوں ، بوڑھوں کا خوں بہانے، زیتون کے جھنڈ جلانے، گھروں کو مسمار کرنے اور ایک قوم کو غلام بنانے کے عمل کے خاتمے کیلئے سب چیختے ہیں آخر ان مظالم کا خاتمہ کب ہوگا رحم مادر سے قبر تک یہ سارا عمل سلسلہ درسلسلہ چلتا ہے چلتا ہے، چلتا ہے اور چلتا ہے نیماہ اسمٰعیل نواب نے اپنی شیریں مزاج لفظیات کی تہہ میں موجود تلخی سے ایک عالم کو چونکا دیا۔ اس کی کتاب ”بادبان کھلتے ہیں“ کی اشاعت کے بعد عرب دنیا کی نئی حقیقتیں سچ کے نئے زاویوں کے ساتھ مشرق و مغرب پر یکساں آشکار ہوئیں۔ وہ اپنی شاعری قدیم روایات کے مطابق موسیقی کی دھنوں پر رجزیہ انداز میں سناتی ہے تو ایک سماں باندھ دیتی ہے۔ نیماہ اسمٰعیل نواب نے اپنی بیشتر شاعری آدھی رات کے بعد لکھی ہے۔ وہ اس وقت تک شاعری کیلئے قلم اٹھا ہی نہیں پاتی جب تک آدھی رات بیت نہیں جاتی۔ اس کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ میں نظم لکھنے بیٹھتی ہوں پھر کاغذ پر پھیلے الفاظ دیکھتی ہوں اور اپنے آپ سے پوچھتی ہوں کہ کیا یہ سب میں نے لکھا ہے۔ نیماہ اسمٰعیل نواب کی ساری نظمیں سچائی کا ساحرانہ اظہار ہیں مگر جلاوطنی، زندگی سے ملاقات کا تعین، رقص، کمین گاہ، موت کا موقوف ہونا، مارکیٹ کی ہوائیں، مکہ کی گلیاں، پراسرار راز، غفلتوں کے اسیر، شب بیدار مسافر،لاجواب، بے عزت قیدی اور عمر قید ایسی نظمیں ہیں جو اشیاء، افراد، اعمال، مختلف خطوں، بالخصوص عرب دنیا کے بارے میں آپ کو ایک نیا زاویہٴ نگاہ دیتی ہیں۔ نیماہ اسمٰعیل نواب کی شاعری کے حوالے سے ایک قدرے کم اہم بات یہ ہوسکتی ہے کہ میں نے اس کی نظموں کے ترجمے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ اب ان صفحات کی ورق گردانی اور باز خوانی کا کام ہورہا ہے۔ آخر میں آپ اس کی نظم ”عمر قید“ پڑھیئے۔ اس کی آنکھوں میں دنیا تاریک ہوگئی اسے کٹی پتنگ کی ڈور کی طرح چھوڑ دیا گیا بکھیردیا گیا … کچل دیا گیا گھیر لیا گیا، باندھ دیا گیا اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی گئی اسے سخت جال میں پھنسا دیا گیا اسے ایذا رسانی کے نت نئے طریقوں سے ذلیل کیا گیا اس کا باطن بے اختیار قہقہے سے گونج اٹھا اس کا ہونا ظاہر ہوا جو ازلی تھا اور ابدی تھا اس کا قیام ایک برزخ میں تھا اس کی شادی نہیں ہوئی تھی اور طلاق بھی نہیں ہوئی وہ بے نور و بے کیف و تاریک و مبہم ہستی رکھتی ہے اس کے سابق شوہر نے اپنے سارے اختیار و اقتدار کو سلب کرنے کے بعد منجمد کر کے چھوڑ دیا ہے اور اس تعلق کے منافع میں اسے جو انعام ملا ہے وہ انعام اب بھی باقی ہے اسے پھانسی پر چڑھا کر چھوڑ دیا گیا وہ اب اس انعام کے پھندے سے لٹک رہی ہے لٹک رہی ہے۔ 4月28日 Microsoft Certification by TechnologyMicrosoft Certification by Technology
Learn about certifications for:
Glossary of certification titlesMCTS: The Microsoft Certified Technology Specialist (MCTS) credential displays your expertise in one specific technology. MCITP: The Microsoft Certified IT Professional (MCITP) credential builds on your core technology expertise to demonstrate your key IT professional job-role skills. MCPD: The Microsoft Certified Professional Developer (MCPD) credential complements your core technology expertise to demonstrate your key developer job-role skills. MCP: The Microsoft Certified Professional (MCP) credential is a one-exam certification that demonstrates your skills on legacy Microsoft technologies. 4月22日 عالمی یوم ارض آج ساری دنیا میں عالمی یوم ارض
منایا جارہا ہے تو زمین پر انسانوں کے تیز تر پھیلاؤں اور ان کی بڑھتی
ہوئی معاشی سماجی سرگرمیوں کے باعث نہ صرف زمین کے قدرتی خدوخال اور ہیت
تبدیل ہورہی ہے بلکہ کرہ ارض کا مقرر شدہ قدرنی ماحولیاتی نظام بھی درہم
برہم ہورہا ہے۔ زمین وماحولیات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق بنی
نوح انسان اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو درپیش ضروریات کو پورا کرنے کے لئے
خطہ زمین پر موجود دیگر جانداروں ، چرند پرند، جانوروں، پودوں،درختوں کی
بقاء کیلئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ آباد ی میں روزبروز اضافے کے باعث زمین
شدید باؤ کا شکار ہے۔ متعلقہ اداروں سے جو اعدادوشمار
حاصل کئے ہیں ان کے مطابق گزشتہ 20برس کے دوران عالمی آبادی میں 34فیصد
زائد خوراک پیدا کرنا پڑرہی ہے۔ اور خوراک کی ضرورت پورا کرنے کیلئے زرعی
رقبے میں اضافہ کرنا پڑرہا ہے۔ جس کے لئے جنگلات کو بھی کاٹا جارہا ہے۔
گلوبل انوائر نمنٹ آؤٹ پٹ رپورٹ 2007ء کے مطابق دنیا میں سالانہ 73ہزار
مربع کلو میٹر جنگلات ختم ہورہے ہیں۔ بارانی جنگلات کی بقاء کیلئے کام
کرنے والی تنظیم رین ٹری نیوٹر یشن کے مطابق زمین اپنی حیاتیاتی اجسام کے
خزانے کو تیزی سے کھورہی ہے۔ بارانی جنگلات کا رقبہ دنیا کے کل زمین رقبے
کا 14فیصد پر مشتمل تھا جواب کمہوکر صرف7 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے یوں
50فیصد سے زائد بارانی جنگلات کا خاتمہ ہوچکا ہے گزشتہ200برسوں کے دوران
بارانی جنگلات کا رقبہ1500ملین ہیکٹر سے کم ہوکر 800ملین ہیکٹر سے بھی کم
رہ گیا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق اس سلسلہ کو نہ روکا گیا تو باقی
ماندہ جنگلات کو انسان آئندہ40برسوں میں استعمال کرلیگا۔ بارانی جنگلات کے
ناپید ہونے کے خطرے کا اندازہ ان اعدادوشمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی
یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں فی سکینڈڈیڑھ ایکڑ رقبہ ختم ہورہا ہے
۔ تحقیق کے مطابق پودوں ، جانوروں اور اڑنے والے کیڑے کی 50فیصد سے زائد
اقسام کا مسکن گرم مرطوبارانی جنگلات ہیں۔ ایک ہیکٹر (2.47ایکڑ)رقبہ
جنگلات میں750سے زائد اقسام کے درخت اور1500اقسام کے بڑے پودے پائے جاتے
ہیں یوں انسان اوسط صرف2سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں ان کاخاتمہ کررہا ہے اس
کے علاوہ بارانی جنگلات میں 3000اقسام کے فروٹس پائے جاتے ہیں ان میں سے
200فروٹس مغربی دنیا استعمال کرتی ہے جبکہ انڈین فورسٹ میں 2000سے زائد
استعمال ہوتے ہیں۔ بارانی جنگلات کے خاتمہ سے ہر روز137اقسام کے پودے،
جانور اور اڑنے والے کیڑوں کا خاتمہ ہورہا ہے اس کے علاوہ دنیا میں بننے
والی 121ادویات بھی جنگلی پودوں کے ذریعے بنائی جاتی ہیں۔ جنگلات کی کٹائی
کی بنیادی وجہ زراعت کے علاوہ لکڑی کا استعمال گھریلو اور کاروباری دونوں
مقاصد میں لانا ہے۔ عالمی تنظیم دی نیچر کنزوویشن کے مطابق دنیا کے ایک
ارب 20کروڑ غریب افراد میں سے 90فیصد کے گزربسر کا انحصار جنگلات پر ہے۔
ورلڈ کنزرویشن یونین کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں4میں سے ایک
دودھ پلانے والے جانوروں کی اقسام آئندہ50برسوں میں ناپید ہوجائے گی۔ اس
کے علاوہ 8میں سے ایک پرندوں کی اقسام اور33فیصد جوہڑوں کی مخلوق کا صفایا
ہوجائے گا۔ یونین کے مطابق جانوروں ، پودوں اور پرندوں کے خاتمہ کی شرح ان
کی متوقع قدرتی خاتمہ کی شرح کے مقابلے ایک ہزار سے 10ہزار گنا زیادہ ہے
جس کی بنیادی وجہ شہروں کے قیام اورآبادی میں اضافہ، زراعت، جنگلات کی
کٹائی اور شکار ہے۔ اس وقت 16ہزار حیاتیاتی اجسام کی اقسام کو ناپیدی
کاخطرہ لاحق ہے جبکہ گزشتہ500برسوں کے دووران انسانی سرگرمیوں کے
باعث820حیاتیاتی اجسام کا اقسام ناپید ہوچکی ہیں۔ورلڈ ارتھ نیٹ ورک کے
اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ صدی کے دوران عالمی موسم میں1عشاریہ 7سے
1.5سینٹی گریڈ کااضافہ ہوا ہے اور پیشنگوئی کی جارہی ہے کہ 1990ء کے
مقابلے میں 21ویں صدی کے دوراناعالمی سطح پرگرمی کی شدت میں 1.4سے
5.8سینٹی گریڈ کااضافہ ہوگاجبکہ سطح سمندرمیں3.5سے34.6انچ کا اضافہ ہوگا۔
اسوقت سطح سمندر میں اضافہ کی رفتار کی شرح گزشتہ صدی کی نسبت 50فیصد زائد
ہے۔ صنعتی انقلاب کے آغاز سے اب تک گلوبل وارننگ کی سب سے بڑی وجہ کاربن
ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 35فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انسانی سرگرمیوں کے باعث
ہر سال 7ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضاء میں شامل ہورہی ہے۔ پاکستان میں
کاربن ڈائی آکسائیڈکااخراج اوسط فی کس 1عشاریہ 8میٹرک ٹن سالانہ ہے۔ 4月20日 Education with Job Acquiring education has
always been a tough task but
when it comes to learning
while working, it’s really like
walking on a tight rope. And the situation may be worse if you are returning to
your studies after a gap and also have a
family to look after. This I realised only lately when a friend of mine, who’s a call centre trainer, decided to do his MBA. Because of work his timings, he managed to get admission in the morning shift of a local business studies institute. There he sat with a group of non-serious students of around 25 years of age. Hoping to get some individual attention from his teachers when resuming his studies after such a long time, he was given none whatsoever. Failing to understand his needs, the teachers treated him just like any other pupil. Another hurdle in his pursuing a decent education was his family’s demands. They just wouldn’t let him study in peace. Thus, completing assignments on time became close to impossible but when he approached his class fellows in the hope of getting some guidance from them, they were either partying with others their own age or were running out of mobile phone batteries or balance to speak to him. And then just before the examinations, came the notification that he was not eligible to sit for exams because of his low attendance during classes. It was an uphill task, making the management understand his problems. Finally, when he was allowed to take the exam, the result was quite predictable. My friend quit his studies. Many people at different stages of their life have been known to go back to their studies in order to cope with the changing and challenging demands of their respective professions. They may be upgrading their knowledge to find a better job, get a raise or secure a good job along with their future. However, studying while holding down a job has never been easy. There are a number of obstacles lying in your way. First of all, there is the difference between you and your fellow students. This may not just be a gap in age but a difference in the conscious level. The other students may not have entered their practical life as yet and thus, being slightly less mature, they may be at a different cognitive level althogether, which would lead to your feeling like a lonely stranger. Second, if the teachers don’t realise the cognitive differences, they may, although unintentionally, end up hurting you emotionally. It adds fuel to fire if your family too isn’t cooperative. Office load, assignment preparation, scarcity of quality time for education accompanied by family routine demands and sleeplessness are potential discouragements. Mentally and physically, you are always less vigilant or attentive than the others students who only have their studies to worry about. Fatigue and tiredness add to boredom, making you feel pressured. It can be even worse if you are a woman attending night school. The evening timings may clash with a number of things including unavailability of transport, household chores, socialising, etc. Although these tribulations may sound acute and stern, you can take a few simple measures to remedy the situation. Your learning endeavours should be well-planned. If possible, select a place of study that is near your residence or place of work to avoid transport problems. Also try and take your boss or office management into confidence. Meet the teachers at your place of study and let them know of your other responsibilities along with the purpose and need for your studying further. Talk to your family members also. Try and prepare them mentally to themselves learn how to cope with routine matters and minor crises at home instead of coming to you for just about everything. Maybe you could also try and find out if any of your friends or colleagues plan to enroll themselves in a similar programme either now or later on. You could then coordinate with them and try to join with them. And last but not least, make sure you have enough leave accumulated before entering a study programme just so you can apply for leave before your examinations. تصورات
ہمارے اکابر کے تصورات کو آج کے دور میں سمجھنے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ
موجودہ دور میں استعمال ہونے والی اصطلاحات اور الفاظ ہیں۔ کئی اصطلاحات
ایسی ہیں جو ہر دور میں علمی ترقی، رابطے کے ذرائع کی ترویج اور بین
الاقوامی رائے عامہ کو ایک ساتھ مخاطب کرنے کی لگن میں اپنے اصلی معنی اور
مفہوم جن کو کسی خاص وقت کے محاورے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ الفاظ
اپنے معنی یا تو کھو دیتے ہیں یا ان کے معنی مثبت اور منفی زاویوں کی وجہ
سے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ لفظ فہمی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر لفظ کو اس کے
استعمال کرنے والے کی منشا اور اس کے معنوں کی روشنی میں ہی سمجھا جائے۔
یہ اصول ہر دور کے عالموں کے لئے ایک مسئلہ رہا۔ اہرام مصر کے محققین اس
الجھن کو سلجھا رہے ہیں کہ اس وقت کی تعمیر و تحریر، اشاروں اور کنایوں کا
کیا مفہوم تھا اور وہ اشارے اور کنائے ہمارے لئے کتنے بامعنی ہیں۔ تاریخ
داں اس الجھن کو سلجھا رہے ہیں کہ تزک بابری میں بتائی جانے والی جنگی
حکمت عملی آج کس حد تک کامیاب ہے، اس پس منظر میں علامہ اقبال اپنے دور
میں رائج تمام طرز ہائے حکمرانی کی کوتاہیوں کو رد کرتے ہوئے جمہوریت کو
سب سے بہترین طرز حکومت سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا اس طرز حکومت میں
تحقیق اور عوام کی خوشحالی کی تدبیریں کی جائیں گی، انہوں نے اس طرف بھی
اشارہ کیا ہے کہ عوام کی حکمرانی کہیں گروہ کی حکمرانی نہ بن جائے اور یہ
طرز حکومت جاگیرداروں اور اشرافیہ کے زیر اثر نہ آجائے، وہ جمہوریت کو
تبدیل حالات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اصول شرع کے مطابق جماعِ امت
ہمیشہ حق پر ہوتا ہے، اس کا مفہوم عام فہم زبان میں یہ ہے کہ اکثریت کبھی
دھوکا نہیں کھاتی۔ علامہ اقبال بھی اسی اصول سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ
اگر مدبران قوم عوام کی رہنمائی کریں تو عوام کا فیصلہ غلط نہیں ہو گا۔
قوموں کی رہنمائی اور گمراہی کے درمیان تحقیق اور تجسس کا ہی فرق ہے، جو
قومیں علم اور تحقیق کو اپنا رہنما بناتی ہیں، وہ کامیاب ہوجاتی ہیں۔
علامہ اقبال کے تصورات میں جو کامیابی شعور کی بیداری میں ملی ہے، وہی
کامیابی جمہوریت کے فروغ کو ملی ہے۔ ان ہی اصولوں کے تحت انہوں نے عملی
طور پر قائداعظم کی تحریک کی حمایت کی تھی اور آج ہم ان ہی اکابر کے اعلیٰ
تصورات کے ثمرات کے متمنی ہیں۔ امیدیں
پوری قوم کو نئی اسمبلی اور نیا وزیراعظم مبارک ہو۔ عوام کو منتخب حکومت
سے بے شمار توقعات وابستہ ہیں، جس میں سب سے پہلے مہنگائی پر قابو پانا
ہے۔ دوسرے نمبر پر سیاسی اور معاشی استحکام اور تیسرے نمبر پر ملک اور اس
کے باشندوں کو خوشحال بنانے کی خاطر تمام وسائل کو بروئے کار لانا ہے۔
مہنگائی پر قابو پانے کا طریقہ یہ ہے کہ اشیائے صرف خالص ہمارے اپنے ملک
کی ہوں، جن کو بنانے میں تمام اشیاء ہمارے ملک میں یا تو پیدا ہوتی ہوں،
یا حاصل ہوتی ہوں تاکہ لاگت کم سے کم آئے۔ ایک اہم بات جس کی طرف توجہ
کرنے کی لازماً ضرورت ہے وہ یہ کہ فروخت کنندہ حضرات کے منافع کی حد مقرر
کر دی جائے، جو پچیس فیصد سے زائد نہ ہو تاکہ ضروریات زندگی کی تمام چیزیں
ہر شخص کو دستیاب ہوں اور وہ آسانی سے انہیں خرید سکیں۔ دکاندار عورتوں کے
لباس کے ایک سوٹ کی قیمت پانچ ہزار سے شروع کرتے ہیں اور پندرہ سو میں
فروخت کر دیتے ہیں، جس میں یقیناً وہ منافع بھی کما لیتے ہیں ساڑھے تین
ہزار زیادہ رقم بتانا صارف کے ساتھ حد درجہ کی زیادتی ہے۔ دکانداروں سے
وجہ پوچھو تو وہ دکان کا کرایہ، بجلی کا بل، مزدوروں کی تنخواہ کا رونا
روتے ہیں۔ بجلی کے بل کے حوالے سے اگر حکومت چاہتی ہے کہ صارفین خصوصاً
دکاندار چوری کی بجلی کی بجائے جائز بجلی استعمال کرتے ہوئے اس کا بل ادا
کریں تو کمرشل میٹر کا فی یونٹ ریٹ رہائشی میٹر کے برابر کر دیا جائے اور
اس میں کم اور زیادہ یونٹ کے استعمال سے یونٹ ریٹ کا فرق ختم کیا جائے
بلکہ یکساں ریٹ پر صارف کے لئے مقرر کیا جائے۔ بجلی کے بلوں سے تمام قسم
کے چارجز کو ختم کر کے فی یونٹ ریٹ اور استعمال شدہ یونٹ کو دکھایا جائے
اور اس پر سیلز ٹیکس لگایا جائے تاکہ صارف کی شکائتیں کم ہو جائیں اور لوگ
بجلی کے دفتر کے چکر نہ لگا ئیں ۔ اشیائے خورد و نوش میں ہونے والی
مہنگائی پر قابو پانے کے لئے حکومت کو تمام اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے
اور منافع طے کر کے ریٹ مقرر کرنا ہو گا۔ ملکی سالمیت اور اس کی بقا کے
لئے تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کا اتحاد نہایت خوش آئند ہے جس کو قائم
رکھنے کیلئے تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے
کہ عوام کے مفاد کو سامنے رکھا جائے اور ہر فیصلہ ہمارا اپنا ہو، جس کے
لئے کسی کی ڈکٹیشن کی ضرورت نہ پڑے۔ معاشی استحکام حاصل کرنے کے لئے ضروری
ہے کہ عوام کو ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دی جائے اور تمام اقسام کے ٹیکسوں
کی وصولی کو یقینی بنایا جائے۔ غیر ضروری اخراجات اور تمام سیاسی اور
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کی شاہ خرچیاں بند کی جائیں تاکہ
بچائی گئی رقم سے قرضوں کی ادائیگی ممکن ہو۔ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ
اخراجات کو کنٹرول نہ کیا جائے اور امداد پر انحصار کیا جائے۔ ہمارے ملک
میں ایسے بھی لوگ ہیں، جن کی تنخواہ لاکھوں روپے ماہانہ ہے، جن کا بوجھ
عوام برداشت کرتی ہے۔ اگر تنخواہوں کی زیادہ سے زیادہ حد پچاس ہزار اور کم
سے کم دس ہزار مقرر کر دی جائے تو بڑی حد تک مہنگائی پر قابو پایا جا سکے
گا۔ دہشت گردی کے نام سے جو لا حاصل جنگ جاری ہے اس کا خمیازہ پوری قوم
خودکش دھماکوں کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ اس کارروائی کو فوراً روک دیا
جائے اور بے گناہ معصوم مسلمانوں کو تہہ دل سے معاف کر کے انہیں بھی
معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جائے۔ بلوچستان اور سرحد کے پہاڑوں میں چھپی
معدنیات ہمارے ہنرمندوں کی منتظر ہیں لیکن پہلے وہاں کے حالات کو بہتر
بنانا ہے جس کے لئے عام معافی کا اعلان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے
جوانوں کی واپسی اور فراہم کئے جانے والے اڈوں کی واپسی بہت ضروری ہے۔
حکومت اگر چاہتی ہے کہ قرضوں کے بوجھ سے چھٹکارا حاصل جائے، عوام کو
خوشحالی میسر ہو، سیاسی اور معاشی استحکام حاصل ہو تو مندرجہ بالا امور کو
مدنظر رکھتے ہوئے دلیری سے فیصلے کرنا ہوں گے۔ ہمارا ملک براعظم ایشیا کا
ایک طاقت ور ملک ہے۔ ایشیائی ممالک سے اتحاد کر کے دشمنوں کے ناپاک عزائم
کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے۔ 4月12日 نینداے گردشِ
حیات کبھی تو دِکھا وہ نیند 4月10日 Microsoft Sends Letter to Yahoo! Board of Directors
4月3日 میں اور میری آوارگی پھرتے ہیں کب سے دربدر، اب اس نگر اب اُس نگر ایک دوسرے کے ہمسفر، میں اور میری آوارگی نا آشنا ہر رہگزر، نہ مہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر، میں اور میری آوارگی ہم بھی کبھی آباد تھے ، ایسے کہاں برباد تھے بےفکر تھے، آزاد تھے، مسرور تھے، دلشاد تھے وہ چال ایسی چل گیا ، ہم بجھ گئے دل جل گیا نکلے جلا کے اپنا گھر، میں اور میری آوارگی جینا بہت آساں تھا ، اک شخص کا احسان تھا ہم کو بھی اک ارمان تھا ، جو خواب کا سامان تھا اب خواب ہے نہ آرزو ، ارمان ہے نہ جستجو یوں بھی چلو خوش ہیں مگر ، میں اور میری آوارگی وہ مہوش وہ ماہ رو ، وہ ماہِ کامل ہوبہو تھیں جسکی باتیں کوبہ کو، اس سے عجب تھی گفتگو پھر یوں ہوا وہ کھو گئی ، تو مجھ کو ضِد سی ہوگئی لائیں گے اسکو ڈھونڈ کر ، میں اور میری آوارگی یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا ، وہ بات ایسی کہہ گیا کہنے کو پھر کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا جب کہہ کے وہ دلبر گیا ، ترے لئیے میں مر گیا روتے ہیں اسکو رات بھر، میں اور میری آوارگی اب غم اٹھائیں کس کے لئیے، آنسو بہائیں کس کے لئیے یہ دل جلائیں کس کے لئیے، یوں جان گنوائیں کس کے لئیے پیشہ نہ ہو جسکا ستم ، ڈھونڈیں گے اب ایسا صنم ہوں گے کہیں تو کارگر ، میں اور میری آوارگی آثار ہیں سب کھوٹ کے، امکان ہیں سب چھوٹ کے گھر بند ہیں سب گھٹ کے، اب ختم ہیں سب ٹوٹ کے قسمت کا سب یہ پھیر ہے ، اندھیر ہے اندھیر ہے ایسے ہوئے ہیں بےآثار ، میں اور میری آوارگی جب ہمدم و ہمراز تھا ، تب اور ہی انداز تھا اب سوز ہے تب ساز تھا ، اب شرم ہے تب ناز تھا اب مجھ سے ہو تو ہو بھی کیا ، ساتھ ہو وہ تو وہ بھی کیا ایک بے ہنر، اک بےثمر، میں اور میری آوارگی Listen it |
|
|