Tarique's profileTarique kamalBlogLists Tools Help
    February 24

    انتخابات اور ہار جیت

    انتخابات میں ہارجیت ہوتی ہے، ہارکبھی آخری نہیں ہوتی اور فتح، کبھی آخری فتح نہیں ہوتی۔ زندگی میں کامیابی کے لیے ہار جیت کا یہ سبق سیکھنا بہت ضروری ہے اور جس نے یہ سبق نہیں سیکھا، وہ ہمیشہ کے لیے ہار گیا۔ اگر اس بات کو ہمارے سیاست داں ہی نہیں حکمراں بھی سمجھ لیں تو معاشرہ اسی طرح صحت مند ہوجائے گا۔ جس طرح کھلاڑی کا جسم ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے زندگی کے سارے معاملات کو اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے بجائے تنگ نظری کے حوالے کردیا۔ ابتدایئے کے بعد گفتگو کا آغاز تاریخی پس منظر سے کرتے ہیں کیوں کہ پیش منظر کوئی نہ ہو، تو پس منظر اچھی پناہ گاہ ہوتا ہے۔ ساٹھ برس کی مسافرت میں ہم نے ان بہت سی چیزوں کا سراغ پالیا، جو اثنائے سفر میں نمودار ہوتی رہیں، لیکن حقیقت کی وہ منزل مقصود جس کے لیے قربانیاں دے کر مملکت پاکستان میں داخل ہوئے تھے، آج بھی غیر معلوم سی ہے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ، اگر اس کی منزل تھی تو انحراف کا باعث کون لوگ ہوئے؟ کیا مملکت پاکستان کا مقصد یہ تھا جو نظر آرہا ہے۔ ہم جو ایک ہیں، ہماری شناخت صرف پاکستان ہے، پھر کیوں ہم فرقوں، گروہوں میں بٹتے جارہے ہیں۔ ہمارا جھنڈا کسی ایک سیاسی جماعت یا فرقے کا نہیں ہے۔ یہ جھنڈا پاکستانی قوم کا اور اس پاکستانی ریاست کا ہے جو 14/اگست کو وجود میں آئی۔ 11/اگست 1947 کو شہید ملت لیاقت علی خان نے پرچم کشائی کی تقریب سے قبل ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہمارا پرچم، استقلال، آزادی اور مساوات کی علامت ہوگا۔ یہ ہر شہری کے جائز حقوق کی ضمانت کرے گا۔ یہ ملک کی سالمیت کی محافظت و حمایت کرے گا اور یہ جھنڈا دنیا کی تمام قوموں کی عزت و تعظیم حاصل کرے گا۔“ لیکن ہم نے کیا کیا۔ آج ہم سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان سب ہیں، نہیں ہیں تو سچّے پاکستانی۔ جب ہی تو ساٹھ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کم و بیش زندگی کے تمام شعبے ہی خلفشار کا شکار ہیں۔ تعلیم و تدریس، معیشت، ثقافت، صنعت، یہاں تک کہ کیا اخلاقی کیا سماجی، سب کے چہرے مسخ ہوچکے ہیں۔ رویوں میں فرق آجانے کے باعث صحیح اور غلط کی تفریق و تقسیم یکسر بدل گئی۔ علاقہ داری قومیت نے انسانی مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ ہی کیا ہے۔ افسوس تو اس کا ہے کہ ہمارے نوجوان جنہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، وہ بھی فرقوں، گروہوں میں بٹتے جارہے ہیں۔ اس وقت روح سوز لہجے میں اقبال کے گنگنانے کی آواز سماعت سے ٹکرا رہی ہے۔ کبھی اے نوجواں مسلم، تدّبر بھی کیا تُونے وہ کیا گردوں تھا، تُو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہوا تارا سمان الفقر فخری کا رہا شان امارت میں بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روئے زیبا را تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت، وہ سیارا غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے جہاں گیرو، جہاں دارو، جہانبان و جہاں آرا ملک سے محبت کرکے ہی ہم قدم جما کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک تھکا دینے والے سفر کے بعد بھی یہ سوچتے ہیں کہ خدا جانے ہمارا مقصدِ سفر کن راہوں، منزلوں اور پیچ و خم سے گزرے گا، کیا یہ غور طلب بات نہیں کہ یہ ملّت اپنے دور کے ابراہیم کی تلاش میں ایک مدت سے سرگرداں ہے، لیکن بات وہی ہے کہ پہچانتے نہیں ہیں راہبر کو ہم۔ جیسے ہی کوئی سامنے آیا، یہ قوم پھر ناامیدی میں امید کے چراغ جلانے لگے گی۔ ہوسکتا ہے دِیے جلانے کی تیاری شروع کردی ہو، کیوں کہ ہمارے عوام بہت معصوم اور مسکین ہیں۔ احساسات کے تابع، ذرا سی خوشی ملنے پر قہقہے لگاتے ہیں اور معمولی غم خون کے آنسو رُلا دیتا ہے۔ لیکن اگر حالات کے کھوکھلے اور دیمک خوردہ تنے سے نئی شاخوں کے پھوٹ نکلنے کی آرزو نہ رہے تو ہم بے حسی کی گھٹن میں دم توڑ دیں گے۔ کاش، ہمارے کشکول ذہن نئی امنگوں سے روشناس ہوجائیں۔ ہم اپنے اندر توانائی محسوس کریں۔ کاش، انتخابات کے بعد اب ہم سب مل کر اس ملک کو اپنے جذبہٴ تعمیر اورحسنِ تخلیق سے اتنا خوب صورت بنا دیں کہ جنّت کا گمان ہونے لگے۔ یہ سوچ لیں کہ ہمارا آج کا مسئلہ روٹی، کپڑا، مکان سے بڑھ کر تحمل، تدبر اور تفکر کی ضرورت پر منتج ہے۔ آج ہم شعوری ارتقاء کے باوجودبھی غرور و خوف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں، تب ہی تو سیاسی، سماجی، نفسیاتی مسائل روز بہ روز ابھرتے جا رہے ہیں اور قوم بے چینی، بے اطمینانی کی دلدل میں دھنستی چلی جا رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایسا سلگتا سوال ہے جو ہم آپ سے پوچھیں یاآپ ہم سے پوچھیں، جواب صرف ایک ہے، اتفاق آپ بھی کریں گے کہ ہمارے مزاجوں میں ”بے حسی“ در آئی ہے۔ شرمندگی، اظہارِ ندامت، ڈھیٹ خاموشی میں بدلتے جا رہے ہیں۔ بڑے سے بڑے غلط کام کر کے، اطمینان سے اکڑ کر کہا جاتا ہے ”جو ہم نے کیا وہی درست ہے، دوسروں جو کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں، وہ غلط ہے۔“ اوپر خدا نیچے حکمران ہیں، بیچ میں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تیر پر تیر چلاؤ تمہیں ڈرکس کا ہے سینہ کس کا ہے میری جان سپر کس کا ہے کہتے ہیں کہ اگر کوئی اتفاقیہ گھوڑے پرسے گر جاتا ہے تو اس کو روندا نہیں جاتا بلکہ اٹھا کر پھر گھوڑے پر بٹھا دیا جاتا ہے، لیکن جو جان بوجھ کر گرے اور عوام کو روندتا چلا جائے تو پھر یہ عوام کی طاقت پر منحصر ہے کہ وہ کیا قدم اٹھائے۔اب دیکھیں چرچل کو اس کی قوم نے سالہا سال تک گالی گلوچ کا نشانہ بنائے رکھا، مگر اسی چرچل نے اس قوم کو ہٹلر کی غلامی سے بچالیا۔ اگر چرچل نہ ہوتاتو آج برطانیہ کا کیا حال ہوتا؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سیاست میں کوئی چیز مستقل نہیں ہوتی اورمستقل روگ نہیں سمجھی جاتی۔ اگر سیاست دانوں کا مطمح نظر قوم کی مجموعی بھلائی ہو، ذاتی سیاست یا انَا کا ٹکراؤ نہ ہو۔ سیاست انتقام یا تنگ دل پر نہ ہو۔ تو ہرچیز پر نظرثانی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ہمارے سیاست دان، حکمران، کدورتوں کی کڑاہی میں سارا وقت جلتے بھنتے رہیں تو پھر نہ وہ قوم کے خیرخواہ ہو سکتے ہیں اور نہ خود جلنے کڑھنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ سوچیں کہ انسان غلطیاں کرتا ہے لیکن اصلاح کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتا تو اپنے باطن میں کیسے کیسے عذاب جھیلتا ہے۔ جس طرح کریلے جیسی کڑوی کا مربّہ مشہور ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ باورچی یہ فن جانتا بھی ہو، اگرچہ ابھی تک ہمارے سیاستدان اپنے فن میں تاک نہیں ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ جلد وہ کڑواہٹ بھری سیاست کو ختم کرنے میں ماہر ہوجائیں گے اور پاکستان جس کا خواب عبدالحلیم شرر، سید احمد خان اور شاعرِ مشرق، علامہ اقبال نے دیکھا تھا، اب ایک خواب نہیں رہے گا، اس کی تعبیر جلد نظر آجائے گی۔ہماری دعا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی حکومت نفرتوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ سب ایک دوسرے سے محبت کرتے رہیں، محبت بانٹتے رہیں اور محبت پاتے رہیں۔ ہمیں مصطفی زیدی مرحوم کی نظم” احتساب“ کا ایک بند یاد آرہا ہے۔ میں اپنے ذہن کا اِک اِک ورق الٹتا ہوں ہر اِک ورق کی جبیں پر نشانِ عصمت ہے کسی بیاض پر بکھرا ہوا ہے، خواب کا رنگ وہ خواب جن میں نئے عہد کی بشارت ہے

    February 11

    Safer Internet Day

     
    Safer Internet Day on February 12, 2008
     
    Safer Internet Day will be observed throughout the globe on February 12. The theme for Safer Internet Day 2008 is "Life online is what you make of it":

    Is the Internet a positive or negative element in today's world? Are mobile phones only about "connecting people"? Can we believe everything we see on the Internet? Do we behave differently online than in the "physical" world? How does our behaviour impact on the online environment?

    Safer Internet Day is organised under the patronage of Commissioner Reding. The event builds on the success of Safer Internet Day 2007, when 100 organisations in more than 40 countries took part.

    Safer Internet Day takes place each year in February and is an opportunity to dedicate some time in educational institutions to reflect on some of the issues and more importantly to raise awareness of them. Safer Internet Day provides an opportunity to celebrate the right of every child to enjoy safe and rewarding Internet experiences.

    Safer Internet Day is a yearly event, taking place in the month of February. It is organised by Insafe, the European Internet safety network. In 2007, 43 countries from all over the world participated in Safer Internet Day.

    The Safer Internet plus programme aims to promote safer use of the Internet and new online technologies, particularly for children. Safer Internet Day is part of a global drive to promote a safer Internet for all users, especially young people.

    To celebrate Safer Internet Day, young people are invited to express their ideas and other aspects of the virtual world by participating in an international blogathon.

    The Safer Internet Programme has changed its website. The changes include information and a list of general safety advice concerning the Internet and other communication technologies as well as an easier way of finding information about the national activities taking place within the framework of the Programme.

    In 2008, the European Commission focuses particularly on the experiences and involvement of young people. In celebration of Safer Internet Day 2008, the European Commission organises a Youth Forum on Safer Internet in Brussels where youth (14-17 year olds) from nine countries including Austria, Czech Republic, Cyprus, Finland, Germany, Iceland, Netherlands, Sweden and UK will discuss issues related to their use of online technologies. They will present their recommendations to Viviane Reding, Commissioner for Information Society and Media, industry and politicians.

    The Youth Forum will in particular discuss issues related to risks, experiences and precautions taken in using mobile phones and social networking sites, and the youth will also be encouraged to create a set of 10 awareness tips for their age group.

    All around Europe, organisations will participate in Safer Internet Day activities to promote a safer use of Internet and other communication technologies, organised by the Insafe awareness network. Young people are invited to express their ideas about aspects of the virtual world by creating a multimedia project for the Safer Internet Day 2008 Competition on the topic "Life online is what you make of it". The winners will be announced on Safer Internet Day 2008.

    The international blogathon is a worldwide event beginning on Safer Internet Day and lasting a week. The blogathon will generate worldwide discussion with young people on important Internet safety issues to help create an understanding of the online world and people's attitudes and behaviours when they are using the Internet.
     
    February 08

    سو درد

     

    سو درد ہیں، سو راحتیں

    سب ملا دلنشیں

    ایک تو ھی نہیں

     

    روکھی روکھی سی یہ ہوا

    اور سوکھے پتّے کی طرح

    شھر کی، سڑکوں پہ میں

    لاوارث اُڑتا ہوا

    سو راستے

    پر تیری راہ نہیں

     

    سو درد ہیں، سو راحتیں

    سب ملا دلنشیں

    ایک تو ھی نہیں

     

    بہتا ہے، پانی بہنے دے

    وقت کو یونہی، رہنے دے

    دریا نے کروٹ لی ہے تو

    ساحلوں کو سہنے دے

    سو حسرتیں

    پر تیرا غم نہیں

     

    سو درد ہیں، سو راحتیں

    سب ملا دلنشیں

    ایک تو ھی نہیں

     

    شاعر : گلزار

     

    یہاں سے سنئے

    February 04

    S2B

    HomePageLink
     
     

     

    Create REAL partnerships with the Student to Business Program.

     

    Are you a graduating student looking for formative work experience in the IT field? Are you an employer hoping to recruit students with the skills to meet the demands of today's technology industry? Are you a professor at a University teaching Microsoft technology competencies? Welcome to the S2B program, a community initiative by Microsoft and P@SHA involving leading Employers and Universities.

     

    Our goal is to provide training opportunities for final-year students at local businesses by offering opportunities to obtain globally recognized certifications, work experience and, most importantly, an opportunity to further employment and self sustainability. Strong local skills will enhance career opportunities, innovation, economic growth and employment while benefitting technological advances in Pakistan.

     

    Employers, please click on Partners.

    Universities, please click on Learning Centres.