Tarique 的个人资料Tarique kamal日志列表 工具 帮助
11月22日

MCTS & MCITP : Windows Server 2008 Certifications

Windows Server 2008 Certifications

Become a Microsoft Certified Technology Specialist (MCTS) on Windows Server 2008 and help your organization take advantage of advanced server technology with the power to increase the flexibility of your server infrastructure, save time, and reduce costs. Transition certifications are available today for Windows Server 2003 certified professionals, while full certification paths will be available soon after the Windows Server 2008 product release.

Transitioning Your MCSA Skills to Windows Server 2008

Continue to build on your existing skills and be one of the first to become a certified expert on Windows Server 2008 (formerly code name "Longhorn"). Windows Server 2008 is the powerful new server technology that helps you increase the flexibility of your server infrastructure while saving time and reducing costs.

Microsoft Certified Systems Administrators (MCSAs) in Windows Server 2003 can quickly and easily transfer their skills to achieve Microsoft Certified Technology Specialist (MCTS) accreditation on Windows Server 2008. The MCTS credential enables professionals to target specific technologies and distinguish themselves by demonstrating in-depth knowledge and expertise in those technologies.

Make the transition from MCSA: Windows Server 2003 to MCTS: Windows Server 2008

Professionals with an MCSA on Windows Server 2003 must pass one exam to become an MCTS on Windows Server 2008. If you are an MCSA and pass this exam, you will earn two distinct MCTS certifications:

MCTS: Windows Server 2008 – Active Directory Configuration
MCTS: Windows Server 2008 – Network Infrastructure Configuration

Exam 70-648: TS: Upgrading your MCSA on Windows Server 2003 to MCTS on Windows Server 2008 

Transitioning Your MCSE Skills to Windows Server 2008

Continue to build on your existing skills and be one of the first to become a certified expert on Windows Server 2008 (formerly code name "Longhorn"). Windows Server 2008 is the powerful new server technology that helps you increase the flexibility of your server infrastructure while saving time and reducing costs.

Microsoft Certified Systems Engineers (MCSEs) in Windows Server 2003 can quickly and easily transfer their skills to achieve Microsoft Certified Technology Specialist (MCTS) accreditation on Windows Server 2008. The MCTS credential enables professionals to target specific technologies and distinguish themselves by demonstrating in-depth knowledge and expertise in those technologies.

Make the transition from MCSE: Windows Server 2003 to MCTS: Windows Server 2008

Professionals with an MCSE on Windows Server 2003 must pass one exam to become an MCTS on Windows Server 2008. If you are an MCSE and pass this exam, you will earn three distinct MCTS certifications:

MCTS: Windows Server 2008 – Active Directory Configuration
MCTS: Windows Server 2008 – Network Infrastructure Configuration
MCTS: Windows Server 2008 – Application Platform Configuration

Exam 70-649: TS: Upgrading your MCSE on Windows Server 2003 to MCTS on Windows Server 2008

Summary

Windows Server 2008 Administrator:
70-640 Active Directory
70-642 Network Infrastructure
70-646 Windows 2008 Server Administrator Exam
***Only 3 exams required; the MCTS exams 70-640 and 70-642 and the main MCITP exam for this track, 70-646

 

Windows Server 2008 Enterprise Administrator:
70-640 Active Directory
70-642 Network Infrastructure
70-643 Applications Platform
70-620 OR 70-624 Windows Vista Client
70-647 Windows Server 2008 Enterprise Administrator Exam
***5 exams required; the MCTS exams 70-640, 70-642, 70-643, 70-620 (or 70-624) and the main MCITP exam for this track, 70-647

Windows 2003 MCSE - Pass the 70-649 (upgrade) exam and you do not have to take 70-640, 70-642, 70-643. You DO have to take the MCITP: Enterprise Server Administrator exam and the Vista client exam.

Windows 2003 MCSA - Pass the 70-648 (upgrade) exam and you do not have to take 70-640, 70-642. You DO have to take the MCITP: Server Administrator exam.

Windows Server 2008

11月14日

WCF, WF and .NET 3.5 Whitepapers by David Chappell

Collection of whitepapers authored by David Chappell on .NET Framework 3.5. This includes an introduction to Windows Communication Foundation, an introduction to Windows Workflow Foundation and an overall introduction to .NET Framework 3.5. There's also a paper describing the diverse array of communications protocols and transports supported by WCF.
They include:
  • Introducing NET Framework 3.5, v1.0.doc
  • Introducing WCF in .NET Framework 3.5, v1.0.doc
  • Introducing WF in .NET Framework 3.5, v1.0.doc
  • WCF Diversity Paper, v1.0.doc

Get them here

11月8日

وصیت نامہ اور لائف لسٹ

وصیت نامہ اور لائف لسٹ

کیا آپ نے اپنا وصیت نامہ تحریر کر لیا ہے؟ میں تو کیا کوئی بھی آپ سے یہ سوال کرے، تو آپ فوراً اس کی نیت کے بارے میں مشکوک ہو جائیں گے یا کم از کم اس سوال کو اپنے لئے بد شگونی تصور کریں گے حالانکہ سب سمجھدار لوگ اپنی زندگی میں ہی چاہے عمر کے کسی حصے میں ہوں اپنے اثاثوں، اپنی جائداد یا پھر اپنے سے متعلق دیگر معاملات کے بارے میں ایک تحریری دستاویز ضرور تیار کر لیتے ہیں تاکہ ان کے بعد ان کے لواحقین کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو یا کم از کم دوسروں کے غلط فیصلوں سے ان کی روح کو تکلیف نہ ہو۔ ویسے روح کو تکلیف ہو یا نہ ہو، انسان اپنے بعد بھی اپنے فیصلے دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش ضرور رکھتا ہے۔ مرنا یا موت بہرحال ایک اٹل حقیقت ہے۔ ایک ایسی حقیقت جس کے آگے دنیا کی ساری باتیں، سارے مسائل، ہر خوشی، ہر غم، ہر ارادہ اور ہر خواہش اپنی اہمیت کھو دیتی ہے بلکہ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ کسی چیز کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی، کم از کم مرنے والے کے لئے باقی سب کچھ IRRELEVANT یا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ موت کا ذکر کر کے میں آپ کو ڈرانا یا بد مزہ کرنا نہیں چاہتی بلکہ میں تو آپ کو زندگی کی طرف لانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ یوں بھی وصیت نامہ ان لوگوں کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جن کی زندگی میں محض صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا والے حالات ہوں، بھلا انہیں اپنے کن اثاثوں کے بارے میں وصیت کی ضرورت ہو گی؟ رہے دوسرے انسانی معاملات تو انہیں اپنے بعد دوسرے لوگوں یا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چھوڑ دینا ہی مناسب ہے۔ خواہ مخواہ کی وصیتیں کر کے لوگوں کو کچھ باتوں کا پابند کرنا، کسی طور بھی مناسب نہیں۔ آپ کے لئے تو صرف ایک ہی بات مناسب ہے کہ آپ فوراً اور اسی وقت ایک لائف لسٹ (LIFE LIST) بنا لیں۔ لائف لسٹ سے میری مراد وہ سارے کام ہیں جو آپ مرنے سے پہلے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا خواہش رکھتے ہیں کہ زندگی اگر مہلت دے تو آپ ان کاموں یا باتوں پر ضرور توجہ دیں گے۔ خواہش کرنا یا سوچنا ایک بات ہے اور کاموں کی باقاعدہ فہرست بنا کر عمل کرنے کا ارادہ کرنا بالکل دوسری بات ہے۔ اپنی خواہشوں یا ارادوں کو تحریری شکل دینے سے آپ کے لا شعور میں یہ بات پختہ ہو جاتی ہے کہ آپ واقعی ان معاملات میں سنجیدہ ہیں۔ جب تک زندگی ہے انسان کے ساتھ ہزاروں خواہشیں لگی رہتی ہیں۔ ان خواہشوں کی ایک فہرست بنا لیں۔ سب سے پہلے وہ چیزیں تحریر کریں جن کا حصول آسان اور قابل عمل ہو۔ کم از کم دس سے پندرہ سہیں ایسی خواہشیں یا ایسی باتیں یا کام فہرست میں سب سے پہلے لکھیں جنہیں آپ مستقبل قریب میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا جن کے بارے میں آپ اکثر سوچتے رہتے ہیں مثلاً ایک ملازمت پیشہ فرد، اپنا بزنس یا ذاتی کام شروع کرنے کی خواہش اگر رکھتا ہو تو یہ کام خاصا مشکل ضرور ہے لیکن اسے اپنی لسٹ میں شامل کرنے کا مطلب ہو گا کہ پھر وہ اس کے حصول کے لئے ذرائع بھی سوچے اور ڈھونڈے گا، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی انسان کوئی ایسا ہنر سیکھنا چاہتا ہے جس کا تعلق اس کی روزمرہ کی زندگی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا مثلاً ایک بزنس مین کو آرٹسٹ بننے کی تمنا ہے یا پھر وہ موسیقی کا کوئی ساز بجانے کی خواہش رکھتا ہے۔ ایک خاتون خانہ کوئی غیر ملکی زبان سیکھنے کی خواہش رکھتی ہیں یا کوئی فلاحی کام کرنے کی تمنا دل میں مچلتی ہے۔ تو ایسے سارے کاموں کے لئے مضبوط ارادے کے ساتھ ساتھ بعض دوسرے عوامل بھی ضروری ہوتے ہیں۔ جنہیں اپنے لئے ہموار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کاموں کے لئے وقت نکالنا، ذرائع تلاش کرنا اور پھر جی جان سے اس پر عمل کرنا ایسے عوامل میں شامل ہیں۔ لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو آسانی سے کی جا سکتی ہیں یعنی آپ کے اپنے اختیار میں ہوتی ہیں مثلاً اپنی صحت پر توجہ دینا، وزن کم کرنا، کوئی پسندیدہ فلم دیکھنے جانا، میوزک سننا، وہ ساری کتابیں پڑھنا جنہیں پڑھنے کی ہمیشہ حسرت رہتی ہے یا پھر محض برستی بارش میں بچوں کی طرح نہانا۔ یہ سب خواہشیں یا ایسی ہی دوسری باتیں انسان سوچتا ہی رہتا ہے اور کرتا نہیں۔ انہیں زندگی میں کر ہی لینا چاہئے۔ صرف ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس لائف لسٹ میں درج کچھ باتیں یا کام مشکل ضرور ہوں گے لیکن ایسی چیزیں شامل نہ کریں جن کا حصول نا ممکن ہو۔ مثلاً آپ چاہتے ہوئے بھی چاند پر چہل قدمی نہیں کر سکتے لیکن چاندنی رات میں گھاس پر یا سمندر کے کنارے ٹہلنے کی خواہش تو پوری کی جا سکتی ہے ! لائف لسٹ بنانے کا مقصد جہاں اپنی شعوری اور غیر شعوری خواہشوں کو ایک واضح شکل دینا ہے وہیں یہ اپنی زندگی کو ایک ڈگر پر لانے میں بھی معاون ہو سکتی ہے۔ جو جو کام آپ کرنا چاہتے ہیں یا جن چیزوں کا حصول آپ کے پیش نظر ہے ان سب کے لئے وقت کا تعین کریں۔ ہر چیز کے آگے ایک خاص مدت طے کریں کہ آپ یہ کام اتنے عرصے میں کر لینے کا ارادہ رکھتے ہیں یا اتنے وقفے میں اس کا حصول ممکن ہو گا۔ اس کو گاہے گاہے یا ایک خاص مدت کے بعد چیک کرتے رہیں کہ اس معاملے میں کتنی پیشرفت ہوئی ہے۔ عین ممکن ہے ایک خاص مدت گزرنے کے بعد آپ وہ خواہش حاصل کر چکے ہوں یا آپ کی وہ تمنا ہی دم توڑ چکی ہو۔ اپنی اس لسٹ میں نئے عزائم، نئی خواہشیں یا نئی منزلیں شامل کر لیں، یہ سلسلہ جاری و ساری رہنا چاہئے۔زندگی تو جاری و ساری رہتی ہے لیکن اپنے اندر زندگی کی امنگ اور جینے کی تمنا قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ خواہشوں سے ہاتھ نہ کھینچا جائے بلکہ اپنے لئے نئے سے نئے نصب العین قائم کرتے رہیں، ان کا حصول یا انہیں حاصل کرنے کی کوشش ہی زندگی کا اصل حاصل ہے۔ رہی موت تو اس کا کیا ہے وہ تو ہر چوراہے، ہر نکڑ پر آپ کی منتظر ہے۔ اس پر تو آپ کا کوئی اختیار نہیں لیکن جو چیزیں آپ کے اختیار میں ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش ضرور کریں۔ خاص طور پر وہ کام، باتیں یا خواہشیں جو صرف دل میں ہی مچلتی رہتی ہیں اور آپ محض عدم فرصتی، ذرائع کی کمی یا صرف لوگوں کے خوف سے ان پر توجہ نہیں دیتے۔ انہیں آج ہی جھاڑ پونچھ کر فہرست میں شامل کر لیں۔ یاد رکھیں یہ لائف لسٹ ہے۔ یہ سارے کام آپ کو مرنے سے ” پہلے “ کرنا ہیں، رہیں بعد کی باتیں تو کون جانے اسی فہرست میں شامل کچھ کام بعد میں بھی ہمارے کام آ جائیں، لیکن یہ نہ بھولیے کہ جو لمحہ موجود ہماری دسترس میں ہے ہمیں اس میں کچھ  کر لینا چاہئے کیونکہ ہمارے پاس تو بس یہی وقت ہے!!!  

مسرت جبیں