| Tarique 的个人资料Tarique kamal日志列表 | 帮助 |
|
10月21日 نوبل ایوارڈ کے مستحق ”اوباما نے مشرقِ وسطیٰ میں امن بحال کیا۔ تخفیفِ اسلحہ کے لیے غیر معمولی کام کیے۔ جوہری پروگراموں کو روکنے میں تعاون کیا۔ بین الاقوامی سفارت کاری کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا۔ مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا۔ عالمی امن کی بحالی کے لیے کوششیں کیں… لہٰذا ان کو نوبل پرائز 2009ء کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔“ یہ الفاظ امن کے نوبل ایوارڈ کا فیصلہ کرنے والی نارویجن کمیٹی کا کہنا ہے: ”اوباما نے عالمی امن کے لیے غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔“ نجانے کیا وجہ ہے ہم کوتاہ بینوں کو اوباما کی امن کوششوں کا ثمر کہیں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی صدر نے سال کے شروع میں جب اقتدار سنبھالا تو مسلم دنیا کو توقعات تھیں اوباما چونکہ سیاہ فام ہیں۔ نسلی امتیاز کا شکار رہے ہیں۔ اس لیے انہیں مظلوم قوموں کے دکھ کا احساس ہوگا لیکن اپنے پہلے خطاب میں ہی انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ہمدردانہ لہجہ اپناکر اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچنے دینے کا عزم نے ثابت کردیا تھا کہ انہیں مظلوموں سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ یہی حال افغانستان کا ہے۔ اُمید تھی اب افغان جنگ ختم ہوجائے گی۔ خونِ مسلم کی بہتی ندیاں بند ہوجائیں گی… لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید شدت آئی۔ یہ تاثر عام ہوتا جارہا ہے کہ اوباما افغانستان، عراق، فلسطین اور کشمیر میں امن قائم کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکے ہیں۔ اوباما نے صدارت کا حلف اُٹھایا تھا تو اس سے اگلے دن وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف ”راہم ایمانوئیل“ نامی یہودی کو مقرر کیا تھا ۔ قارئین! اس وقت امریکا کو 85 بڑے ادارے چلارہے ہیں۔ ان میں 54 کٹر یہودیوں کے پاس ہیں۔ ان اداروں کے 54 یہودی مالکان ہر وقت وائٹ ہاؤس میں سازشوں کا جال بُنتے رہتے ہیں۔ صہیونیوں کی نظر میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع سے ہی کھٹک رہا ہے۔ اسی لیے یہاں کا امن تباہ کرنے کے لیے اپنے فوجی اڈے قائم کیے گئے ہیں۔ بلیک واٹر اسے مزید عروج تک پہنچارہی ہے۔ قلعے نما سفارت خانے تعمیر ہورہے ہیں۔ امریکی شہ پر بھارت نے کشمیر کو لہو رنگ بنایا ہوا ہے۔ امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل نے فلسطینیوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔ اسلامی دنیا کے وسائل پر سامراج کے قبضے مستحکم ہورہے ہیں۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کروایا جارہا ہے۔ کیا یہی وہ امن کوششیں ہیں جن پر امریکی صدر کو امن انعام سے نوازا گیا ہے؟ اسرائیل کا ہر بچہ فل آرمڈ ٹریننگ لے تو سیلف ڈیفنس، مسلمان اگر اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ میں پتھر بھی اُٹھائے تو دہشت گرد، چرچ میں راہبائیں اسکارف لیں تو مہذب، مسلمان بیٹیاں اوڑھیں تو انتہا پسندی، امریکا روزانہ ہزاروں لوگوں کو موت کی نیند سلادے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ، مسلمان اس کے خلاف معمولی سا احتجاج بھی کریں تو انتہا پسندی۔ یہ کون سی امن پسندی ہے؟ اس کے باوجود اس کے صدر کو امن کا نوبل انعام سے نوازنا باعث حیرت نہیں؟ تعجب تو اس پر ہے کہ خود اوباما نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ مجھے کیوں امن کے نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ میں اس انعام کا حق دار نہیں ہوں۔ اگر اوباما اپنی بات میں سچے میں تو پھر انہیں چاہیے وہ نوبل پرائز لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیں کہ نوبل پرائز کے بانی ”نوبل الفریڈ“… جس نے آتش گیر مادہ ”ڈائنا مائٹ“ ایجاد کیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بارود سے متعارف ہوئی… کا کہنا تھا میں اس کا تدارک کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی رقم اس کے لیے مختص کردی کہ جو شخص بارود کے خاتمے اور دنیا میں قیام امن کی کوشش کرے اسے یہ انعام دیا جائے۔ چونکہ اس وقت عراق، فلسطین، کشمیری اور افغانستان میں جنگ جاری ہے۔ اس میں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔ امریکی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا آتش فشاں بنی ہوئی ہے۔ جب تک امن نہیں ہوتا ہے اس وقت تک یہ انعام نہ لیں۔ 1973ء میں جب ویت نام جنگ جاری تھی تو نوبل انعام کے لیے ویت نام کے انقلابی جنرل ”لی ڈک تھو“ کے نام کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے نوبل پرائز لینے سے انکار کردیا کہ ابھی جنگ جاری ہے جب تک یہ ختم نہیں ہوجاتی اس وقت میں یہ انعام نہیں لوں گا۔“ نارویجن کمیٹی نے اپنے فیصلے میں دو دلچسپ وجوہات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک یہ کہ اوباما نے عالم اسلام کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں کیں۔ دوسرا یہ کہ اوباما نے جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہم نارویجن کمیٹی سے پوچھنا چاہتے ہیں کیا عالم اسلام میں عراق، افغانستان، فلسطین، کشمیر اور پاکستان شامل نہیں؟ اگر ہیں تو یہ کیوں امریکی غیظ وغضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں؟ کیا تعلقات میں بہتری کا یہی مطلب ہے کہ انہیں لنگڑی لولی امداد دی جاتی رہے۔ اس کے بدلے میں ان کے گھروں کو مسمار اور ان کے باشندوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جاتا رہے۔ امداد دے کر ان کے علاقوں کو تاراج کرنے سے بھی گریز نہ کیا جائے؟ کیا تعلقات بہتر کرنا اسی کو کہتے ہیں کہ ان کی معیشت غیرمستحکم کردی جائے؟ ان کے علاقوں میں ان کی مرضی کے بغیر فوجی اُتارے جائیں جو ان کی خودمختاری اور سلامتی کو داؤ پر لگادیں؟ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرے؟ کیا ایسے شخص کو امن کا نوبل انعام دیا جاسکتا ہے جس نے اقتدار کے پہلے 300 دنوں میں جنگ کا دائرہ ایک ملک سے بڑھاکر دوسرے تک بھی پہنچادیا ہو۔ جو ایک کے بعد دوسرے ملک کو اگلا میدان جنگ بنانے کی دھمکیاں بھی دیتا ہو؟ اگر نہیں تو پھر اسلامی دنیا میں یہ تاثر مزید پختہ ہوتا جارہا ہے کہ یہ ایوارڈ دنیا میں امن کے لیے خدمات انجام دینے والوں کو نہیں بلکہ سامراجی قوتوں کے سکھ آرام کا بندوبست کرنے میں ”حسن کارکردگی“ ظاہر کرنے والے ہی کو دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ انعام پرویز مشرف کو بھی ملنا چاہیے کہ انہوں نے امریکی سامراج کا پٹھو بن کر 9 سال خدمات سرانجام دیں۔ دوسری بات یہ ہے جیسا کہ نوبل پرائز کے بانی نے کہا تھا: ”اس میں مذہب، رنگ ونسل اور قومیت کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔“ لیکن مسلمانوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ ہورہا ہے۔ اب تک 800 کے قریب یہ انعام دیے جاچکے ہیں۔ ان میں چند مسلمانوں کے علاوہ کسی کو بھی نہیں دیا گیا۔ 57 مسلم ممالک میں کتنے اداروں اور افراد کو یہ انعام دیا گیا ہے؟ اہم شخصیات بھی اس ایوارڈ سے محروم رہی ہیں حالانکہ وہ مستحق تھیں۔ دبئی کے سلطان النہیان، ملائشیا کے مہاتیر محمد، پاکستان کے بانی محمد علی جناح، علامہ اقبال جیسے شاعر اور ادیب، بھٹو جیسے مدبر، شاہ فیصل جیسے زیرک جان بوجھ کر محروم رکھے گئے۔ نوبل پرائز کے موجودہ منتظمین کو چاہیے وہ مذہب وقوم اور رنگ ونسل سے بالاتر ہوکر خدمتِ خلق، علم وادب کے شعبوں میں کام کرنے والے مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والوں کو بھی اس انعام سے نوازیں۔ جو رفاہی ادارے اور ادیب خاموشی کے ساتھ انسانی بھلائی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اس طرح کے انعامات کے حق دار کیوں نہیں ہوسکتے۔ گزشتہ سالوں ملک کے بالائی علاقوں کا دورہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ زلزلہ زدہ اضلاع مانسہرہ، بٹگرام اور کوہستان کے دوردراز کے دیہی علاقوں، پہاڑی دروں اور چھوٹے بڑے قصبات کو پہلی مرتبہ دیکھنے کا موقع ملا۔ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے سے ہونے والی تباہی اور بربادی کے اثرات ابھی تک نمایاں ہیں۔ لوگوں کی اکثریت غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ ان دیہی علاقوں میں خواتین، بوڑھوں اور بچوں کی کثرت ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا علاقے کے نوجوان مزدوری کے لیے قریب ودور کے شہروں کا رُخ کیے ہوئے ہیں۔ مانسہرہ کی تحصیل اوگی کے مین بازار سے شمال کی جانب ایک مخروط پہاڑی نظر آتی ہے۔ اس پہاڑ کے بالکل پیچھے ایک بڑا گاؤں ہے جس کا نام کھبل ہے۔ 9 کلومیٹر طویل یہ گاؤں پائین اور بالا دو حصوں پر مشتمل ہے۔ وہاں کے مرکزی علاقے جسے مقامی لوگ ”گراں“ کہتے ہیں اس کے کچے مکانات پر مشتمل ایک رہائشی بلاک جسے مقامی زبان میں ”چھم“ کہتے ہیں۔ میں اس کے کھنڈرات پر کھڑا تھا کہ قریب سے ایک ایمبولینس گزری جس پر فلاحی ادارے کا نام ”ایدھی“ لکھا تھا۔ سوچ رہا تھا اگر ایسے اداروں کو جو انسانیت کی بلارنگ ونسل اور بلا مذہب ومسلک اس اعلیٰ درجے پر اس قدر خاموشی سے خدمت کرتے ہیں، ایوارڈ دیا جائے تو ان کے حوصلے بلند ہوں گے۔ جب ماضی میں رفاہی کاموں کی وجہ سے عیسائی نن ”مدر ٹریسا“ کو مل سکتا ہے تو پھر بلا رنگ ونسل اور مذہب فلاحی کارنامے سرانجام دینے والوں کے سرخیل عبدالستار ایدھی کو کیوں نہیں؟ جب فرانس کے غیر معروف مصنف ”لی کولیز“ کو یہ انعام مل سکتا ہے تو پھر ادبی دنیا کے منفرد نام ”عطاء الحق قاسمی“ کو کیوں نہیں! انور غازی 10月17日 عزت نفس اگر عزت نفس ہو اے برادر نظر کیوں رہے غیر ملکی مدد پر ”ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر تو خوف اور ذلت کے حلوے سے بہتر“ انور شعور امریکہ کی عظیم ناکامی گزشتہ سات سالوں کے دوران
پاکستان کے لئے براہ راست اور غیر پوشیدہ امریکی امداد اور افواج پاکستان
کے اخراجات کی ادائیگی کیلئے مہیا کی جانے والی امریکی امداد کا تخمینہ
15.941/ارب ڈالرز کے لگ بھگ ٹھہرتا ہے اس مجموعی خطیر رقم میں سے
10.941/ارب ڈالرز پاکستان کی سیکورٹی اور 4.598/ارب ڈالرز پاکستان کی
اقتصادی ترقی کے لئے فراہم کئے گئے۔ امریکہ مندرجہ ذیل سات زمروں میں
پاکستان کو معاشی ترقی کے لئے امداددیتا رہا ہے۔ -1 اقتصادی تعاون کا فنڈ (ESF): یہ مجموعی طورپر 3.488/ارب ڈالرز کی خطیر امداد تھی۔ جس کے تحت امریکہ نے پاکستان کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ مختص امداد سے امریکہ کو واپس کیا جانے والا رعایتی قرضہ جو کہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالرز تھا ،کی ادائیگی کو منسوخ کر سکتا ہے۔ سال 2005-6ء میں پاکستان کے بجٹ کو مستحکم کرنے کے لئے 200 ملین ڈالرز سالانہ کی نقد امداد پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔-2 ترقیاتی امداد (DA) کی مد میں امریکہ نے 286 ملین ڈالرز پاکستان کو دیئے۔ -3 کسی قدرتی آفت، تباہی یا ہنگامی صورتحال میں دی جانے والی بین الاقوامی امداد (IDA) کی مد میں امریکہ نے پاکستان کو 255 ملین ڈالرز کی خطیر امدادی رقم دی جو بظاہر اکتوبر 2005ء میں کشمیر کے زلزلہ متاثرین اور اندرون ملک بے گھر ہو جانے والے افراد (IDPs) کی فلاح و بہبود پر صرف ہو گئے۔-4 فوڈ ایڈ یعنی خوراک کی امداد کے حوالے سے 220 ملین ڈالرز دیئے گئے۔-5 نوزائیدہ بچوں کی بقا و صحت (CSH) کے شعبے میں 185 ملین ڈالر دیئے گئے۔-6 حقوق انسانی کی بحالی اور جمہوریت کے زمرے میں 17 ملین امریکی ڈالر دیئے گئے۔-7 مہاجرین کی بحالی کے لئے امداد (MRA) کے حوالے سے 17 ملین امریکی ڈالر دیئے گئے۔اقتصادی ترقی کیلئے دیئے جانے والے 4.598/ارب ڈالر سے بات شروع کرتے ہیں یہ کل 360/ارب روپے بنتے ہیں۔ اگر اس رقم کو ہر پاکستانی میں تقسیم کیا جائے تو ہر فرد، عورت اور بچے کو 2000 روپے فی کس ملنے چاہئیں، بتائیے! کہ یہ تمام رقم کہاں خرچ ہوئی؟ اب آئیے 286 ملین ڈالر کی ترقیاتی امداد کی طرف جو کہ 123/ارب روپے کے برابر ہے اس رقم سے 300 میگاواٹ تک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور اب ایک ایسی صورتحال میں جب بجلی کا بحران سب کا منہ چڑا رہا ہے تو بتائیے امریکہ کی مدد سے ہم نے کیا ترقی کی؟ کسی قدر تباہی کی صورت میں ملنے والی امداد IDA کی مد میں 18/ارب روپے دیئے گئے۔ یہ بہت بڑی رقم ہے 2005ء میں آنے والے زلزلے سے 3.3 ملین پاکستانی بے گھر ہو گئے تھے اور 18/ارب روپے کا مطلب ہے کہ ہر بے گھر فرد کو 5500 روپے ملنے چاہئے تھے کیا کوئی ہے جو زلزلے سے متاثرہ صرف پانچ ہزار ایسے پاکستانیوں کی فہرست بنا کر دکھا دے جو یہ مانتے ہوں کہ ہاں ہمیں امریکہ سے مدد ملی ہے؟ اب بات کرتے ہیں فوڈ ایڈ کی خوراک کی مد میں دی جانے والی امریکی امداد 18/ارب ڈالر ہے یعنی ہر پاکستانی کے لئے 100 روپے یا ہر پاکستانی خاندان کے لئے تقریباً 500 روپے کی امریکی امداد۔ لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اس وقت ملک میں چینی اور آٹے تک کا بحران ہے کیا کسی کو کہیں نظر آرہا ہے کہ پاکستان کے عوام جو سڑکوں پر مایوسی کے عالم میں آٹے اور چینی کے حصول کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں ان بیچاروں کی زندگیوں پر 220 ملین ڈالر کی اس امریکی امداد نے کیوں کوئی اثر نہیں ڈالا؟ بچوں کی بقا اور صحت کے لئے امریکہ نے پاکستان میں 185 ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی ہے لیکن یہ امداد بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ ذرا سوچئے حکومت جاپان نے اسلام آباد میں 230 بستروں کا بچوں کا اسپتال بنا کر دیا ذرا سوچئے کہ اس طرح جاپان روزانہ کتنے پاکستانیوں کے دلوں کو چھوتا ہے جب اس اسپتال میں روزانہ 400 مریض اپنا معائنہ کروا کر جاتے ہیں اور حادثات اور ایمرجنسی کے شعبے میں تقریباً 100 مریض روزانہ اس اسپتال کی خدمات سے مستفید ہو رہے ہیں تو پھر انکل سام کی امداد کہاں گئی؟ مارگلہ کی پہاڑیوں کے قدموں میں جاپان کا تعمیر کردہ بچوں کا تفریحی پارک سب کے سامنے ہے ارجنٹائن نے بھی اسلام آباد میں ایک پارک تعمیر کیا ہے اور اس کے بالکل ساتھ ہی ارجنٹائن کی مدد سے تعمیر کردہ فیڈرل گورنمنٹ سروسز اسپتال بھی موجود ہے جس سے سات ہزار مریض روزانہ مستفید ہوتے ہیں۔ اہل چین نے ہمیں یہاں حسن ابدال سے لے کر کاشغر تک طویل شاہراہ قراقرم تعمیر کر کے دی لیکن امریکیوں نے یہاں خود کو صرف اپنے سفارت خانے کی عمارت تک محدود رکھا ہے۔ یاد رہے کہ 80 ملین پاکستانی ایسے ہیں جو مناسب خوراک تک حاصل نہیں کر پارہے اور 80 ملین پاکستانی آج بھی ان پڑھ ہیں۔ ذرا سوچئے کہ امریکی امداد سے تعلیم کے شعبے میں صرف 2 فیصد خرچ کیا گیا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ گزشتہ 7 سالوں کے دوران 4.598/ارب ڈالر کی تمام کی تمام امریکی امداد خرچ ہو گئی لیکن اس کے اثرات ملک میں کہیں بھی نظر نہیں آتے۔ اب امریکہ نے کیری لوگر امدادی پیکیج کے ذریعے غریب پاکستانیوں کے دلوں کو چھو لینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور پاکستان کا مراعات یافتہ طبقہ اس بار خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہا ہے۔ پاکستان، امریکہ تعلقات کی 60 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکہ پاکستان میں اسپتال اور اسکول تعمیر کرنا چاہتا ہے، 60 سالہ تاریخ میں پہلی بار امریکہ پاکستان کے عام معاشرے اور عوام کو کچھ دینا چاہتا ہے اور پاکستان کا فوجی و غیر فوجی مراعات یافتہ طبقہ اس بار خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ امریکہ کی براہ راست اور کھلی امداد پوشیدہ، چھپی ہوئی اور خفیہ ہی رہی اور کسی کو نظر نہ آسکی کیا یہ امریکہ کی پاکستان میں عظیم ناکامی نہیں؟ کیا امریکہ پاکستان میں منصوبہ سازی میں ناکام رہا یا اس نے خود ہی یہاں ناکام ہونے والی منصوبہ بندی کی؟ ڈاکٹر فرخ سلیم 10月12日 10 Tips for improving your wireless network10 tips for improving your wireless networkIf Windows ever notifies you about a weak signal, it probably means your connection isn't as fast or as reliable as it could be. Worse, you might lose your connection entirely in some parts of your home. If you're looking to improve the signal for your wireless network, try some of these tips for extending your wireless range and improving your wireless network performance. ![]() 1. Position your wireless router (or wireless access point) in a central locationWhen possible, place your wireless router in a central location in your home. If your wireless router is against an outside wall of your home, the signal will be weak on the other side of your home. Don't worry if you can't move your wireless router, because there are many other ways to improve your connection. ![]() 2. Move the router off the floor and away from walls and metal objects (such as metal file cabinets)Metal, walls, and floors will interfere with your router's wireless signals. The closer your router is to these obstructions, the more severe the interference, and the weaker your connection will be. 3. Replace your router's antennaThe antennas supplied with your router are designed to be omni-directional, meaning they broadcast in all directions around the router. If your router is near an outside wall, half of the wireless signals will be sent outside your home, and much of your router's power will be wasted. Most routers don't allow you to increase the power output, but you can make better use of the power. Upgrade to a hi-gain antenna that focuses the wireless signals only one direction. You can aim the signal in the direction you need it most. ![]() 4. Replace your computer's wireless network adapterWireless network signals must be sent both to and from your computer. Sometimes, your router can broadcast strongly enough to reach your computer, but your computer can't send signals back to your router. To improve this, replace your laptop's PC card-based wireless network adapter with a USB network adapter that uses an external antenna. In particular, consider the Hawking Hi-Gain Wireless USB network adapter, which adds an external, hi-gain antenna to your computer and can significantly improve your range. Laptops with built-in wireless typically have excellent antennas and don't need to have their network adapters upgraded. ![]() 5. Add a wireless repeaterWireless repeaters extend your wireless network range without requiring you to add any wiring. Just place the wireless repeater halfway between your wireless access point and your computer, and you'll get an instant boost to your wireless signal strength. Check out the wireless repeaters from ViewSonic, D-Link, Linksys, and Buffalo Technology. ![]() 6. Change your wireless channelWireless routers can broadcast on several different channels, similar to the way radio stations use different channels. In the United States and Canada, these channels are 1, 6, and 11. Just like you'll sometimes hear interference on one radio station while another is perfectly clear, sometimes one wireless channel is clearer than others. Try changing your wireless router's channel through your router's configuration page to see if your signal strength improves. You don't need to change your computer's configuration, because it'll automatically detect the new channel. 7. Reduce wireless interferenceIf you have cordless phones or other wireless electronics in your home, your computer might not be able to "hear" your router over the noise from the other wireless devices. To quiet the noise, avoid wireless electronics that use the 2.4GHz frequency. Instead, look for cordless phones that use the 5.8GHz or 900MHz frequencies. 8. Update your firmware or your network adapter driverRouter manufacturers regularly make free improvements to their routers. Sometimes, these improvements increase performance. To get the latest firmware updates for your router, visit your router manufacturer's Web site. Similarly, network adapter vendors occasionally update the software that
Windows uses to communicate with your network adapter, known as the driver.
These updates typically improve performance and reliability. To get the
driver updates, do the following:
Windows XP
9. Pick equipment from a single vendorWhile a Linksys router will work with a D-Link network adapter, you often get better performance if you pick a router and network adapter from the same vendor. Some vendors offer a performance boost of up to twice the performance when you choose their hardware: Linksys has the SpeedBooster technology, and D-Link has the 108G enhancement. 10. Upgrade 802.11b devices to 802.11g802.11b is the most common type of wireless network, but 802.11g is about five times faster. 802.11g is backward-compatible with 802.11b, so you can still use any 802.11b equipment that you have. If you're using 802.11b and you're unhappy with the performance, consider replacing your router and network adapters with 802.11g-compatible equipment. If you're buying new equipment, definitely choose 802.11g. Wireless networks never reach the theoretical bandwidth limits. 802.11b networks typically get 2-5Mbps. 802.11g is usually in the 13-23Mbps range. Belkin's Pre-N equipment has been measured at 37-42Mbps. |
|
|