| Tarique's profileTarique kamalBlogLists | Help |
Tarique kamal |
May 23 دبئی میں مقیم بے بس پاکستانی مئی کو دو برس بعد دبئی جانے کا
اتفاق ہوا۔ پاکستان ایسوسی ایشن دبئی نے وہاں مقیم پاکستانیوں کے مسائل پر
ایک فورم کا انعقاد کیا تھا، جس میں ہمیں بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
ہماری پرواز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر لینڈ ہوئی۔ جو ایمریٹس ایئر
لائنز کی پروازوں کے لیے مخصوص ہے۔ ایئر پورٹ پرسناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس
کی وجہ کراچی سے آنے والی واحد پرواز تھی۔ امیگریشن حکام غالباً ہمارے ہی
منتظر تھے۔ محض 15 منٹ میں تمام کارروائی مکمل ہوگئی اور ہمیں دو برس پہلے
کا منظر یاد آیا، جب طویل قطاروں میں لگ کر امیگریشن کرانے میں دو گھٹنے
صرف ہوئے تھے۔ ٹرمینل 3 کا سناٹا اس بات کا ثبوت دے رہا تھا کہ ہر عروج کو
زوال ہے اور دبئی اس وقت شدید کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے۔ بلڈنگ کے باہر
ہمارے میزبان پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے ایک عہدے دار عنایت صاحب ہمارے
منتظر تھے۔ ایئر پورٹ سے ایسوسی ایشن کے دفتر کا راستہ بہت سکون سے گزرا،
کیوں کہ سڑکوں پر ٹریفک بہت کم تھی۔ ایسوسی ایشن کے دفتر سے ہمیں ایرانی
ہوٹل لے جایا گیا۔ جہاں ہمارے قیام کا بندوبست تھا۔ ایرانی کلب پاکستان
قونصل خانہ دبئی کے قرب و جوار میں واقع ہے۔ اس علاقے میں انڈین کلب ،
سوڈانی کلب اور دیگر کلب موجود ہیں، لیکن پاکستانیوں کا کوئی کلب نہیں۔
دیگر قوموں کے کلبوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی پاکستانی قونصل خانے نے اپنے
کلب کے قیام کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔ جیوے پاکستان۔ دبئی میں قیام کے دوران بے شمار پاکستانیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور تمام پاکستانیوں کی شکایات کا مرکز قونصل خانہ دبئی تھا۔ پاکستانیوں نے فورم میں موضوع کا رخ سفارت خانے کی کارکردگی کی جانب ہی رکھا۔ جس کے جواب میں قونصل خانے کی نمائندگی کرنے والے کمرشل قونصلر منصور باجوہ نے بتایا کہ اب پاکستانیوں کے لیے گراؤنڈ میں ایسے پنکھے لگوا دیے گئے ہیں، جن سے پانی بھی گرتا ہے، تاکہ ٹھنڈک کا احساس رہے۔ انہیں یہ چھوٹی سی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ سفارت خانے کے عملے کا سرد رویہ اصل مسئلہ ہے۔ پاکستانیوں کو پنکھوں کی ٹھنڈک نہیں، عملے کی گرم جوشی کی طلب ہے۔ جس دفتر میں ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے معاوضہ مقرر ہو، وہاں پنکھوں کی سہولت فراہم کرنا کیا معنی رکھتا ہے اور وہ بھی ایسے دیس میں، جہاں ایئر کنڈیشنر کے بغیر کاروبار زندگی کا تصور ہی نہیں۔ دبئی میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے وہاں سے نکلنے والے مقامی اردو اخبارات بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک روزنامہ اور دو پندرہ روزہ باقاعدگی سے پاکستانیوں کی سرگرمیاں شائع کر رہے ہیں۔ معاصر اخبار کے بیورو چیف طاہر منیر سرور نے بھی فورم میں پاکستان سے آنے والوں کی تربیت پر خصوصی گفتگو کی۔ فورم میں دبئی قونصل خانے کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی کی کمی بہ طورِ خاص محسوس کی گئی۔ وہاں یہ بتایا گیا کہ وہ پاکستان سے آنے والی ایک اہم شخصیت کی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ فورم میں اس بات پر شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا کہ یہاں پر تقریباً ہر ہفتے وزیروں اور بیورو کریٹس کی آمدورفت جاری رہتی ہے اور قونصل خانے کا عملہ ان کی ”خدمات“ پر مامور ہو جاتا ہے۔ اس لیے فارن آفس کو چاہیے کہ یہاں ایک ڈپلومیٹک ڈیسک قائم کر دی جائے، جس کا کام ہی وزیروں کو بہترین ہوٹلوں میں کھانا کھلانا اور شاپنگ کرانا ہو۔ شاید اس طرح عملے کے افراد ضرورت مند پاکستانیوں کے لیے کچھ وقت نکال سکیں۔ پاکستانیوں سے ملاقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ان کی اکثریت ملک میں سرمایہ کاری کی خواہاں، مگر سسٹم سے نالاں ہے۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ وہ پاکستان جا کر اپنی جمع پونجی سرمایہ کاری کے نام پر لٹا کر دوبارہ واپس آگئے ۔ اگر وطن میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ون ونڈو سسٹم کی سہولت فراہم کردی جائے، تو اب بھی پاکستانی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ بہتر تعلیمی سہولتوں کا حصول وہاں مقیم پاکستانیوں کا اہم مسئلہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ دبئی آکر اگر سرمایہ کاری ہی کرنا چاہتے ہیں، تو تعلیمی شعبے میں کریں۔ جہاں رقم ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں، اس طرح امارات میں مقیم پاکستانیوں کو بھی بہتر تعلیمی سہولتیں میسر ہو جائیں گی ۔ کراچی واپسی کے لیے ایمریٹس کے کاؤنٹر پر ایک پاکستانی بھائی سے ملاقات ہوئی،جن کا تعلق بلوچستان سے تھا، انہوں نے تاکید کی کہ یہ ضرور لکھیں کہ یہاں مقیم سفارتی عملہ صرف ایک صوبے کے لوگوں کو ہی پاکستانی سمجھتا ہے اور ملک کی طرح سفارت خانے نے بھی بلوچستان کے لوگوں کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ April 25 تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوںتم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں ناراض نہ ہو مسکراو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں ميں تو اک بنجر زمين کي مانند ہوں کاشی کہيں اور پيار کا پيڑ لگاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں ميں تو بکھرا ہوں تمہيں بھی بکھير دوں گا جاو، کہيں او رقسمت آزماو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں ميں ويران ہوں مجھے آباد کرنے کی کوشش نہ کرو تم اپنا آشيانہ سجاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے مجھے دل سے نہ لگاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں ميں تو غموں کا چراغ ہوں مجھے روشن نہ کرنا کہيں جل نہ جاو، سنبھل جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں ميرے چاروں اطراف موت منڈلاتي ہے رات دن ميرے قريب نہ آو، پلٹ جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں April 02 سب بیکار ہےکہو مجھ سے محبت ہے
محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے !
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے ا سے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے یقین کی آخر ی حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو ! نگاہوں سے ٹپکتی ہو ‘ لہو میں جگمگاتی ہو ! ہزاروں طرح کے دلکش ‘ حسیں ہالے بناتی ہو ! ا سے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے اور شب میں بار ہا اٹھے زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے ! محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی بچھڑ نے کی گھڑ ی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو اسے بس ایک ہی دھن ہے کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘ کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘ تمہیں مجھ سے محبت ہے سمندر سے کہیں گہری ‘ستاروں سے سوا روشن پہاڑوں کی طرح قائم ‘ ہوا ئوں کی طرح دائم زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں محبت کے کنائے ہیں ‘ وفا کے استعار ے ہیں ہمارے ہیں ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں سنہر ا دن نکلتا ہے محبت جس طرف جائے ‘ زمانہ ساتھ چلتا ہے ‘‘ کچھ ایسی بے سکو نی ہے وفا کی سر زمیوں میں کہ جو اہل محبت کی سدا بے چین رکھتی ہے کہ جیسے پھول میں خوشبو‘ کہ جیسے ہاتھ میں پاراکہ جیسے شام کاتارا محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں ر ہتی ہے ‘ گماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے الفت کا ! یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خد شوں میں رہتی ہے ‘ محبت کے مسافر زند گی جب کا ٹ چکتے ہیں تھکن کی کر چیاں چنتے ‘ وفا کی اجر کیں پہنے سمے کی رہگزر کی آخری سر حد پہ رکتے ہیں تمہیں مجھ سے محبت ہے تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھا م کر دھیرے سے کہتا ہے ’’یہ سچ ہے نا ! ہماری زند گی اک دو سرے کے نام لکھی تھی ! دھند لکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے ا سی کا نام چاہت ہے ! تمہیں مجھ سے محبت تھی تمہیں مجھ سے محبت ہے !!‘‘ محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے !
********************************************************
سب بیکار ہے اسکو کچھ اس نظر سے بھی دیکھ لیں
********************************************************
مُحبت جھوٹ لگتی ہے مُجھے
اک کھوکھلا جذبہ
جسے اظہار کی ہر وقت خواہش ہو کہے جانے کی سُننے کی جسے ہر پل ضرورت ہو “مُجھے تم سے مُحبت ہے “ نہ جانے روز کتنے لوگ اس جُملے کو سنُنے کے لیئے بیدار ہوتے ہیں یہ ایسا جھوٹ ہے جس کا سحر صدیوں سے طاری ہے مگر جاناں مُحبت جب کبھی اظہار کو ترسے کوئی تُم سے اگر کہہ دے “مُجھے تم سے مُحبت ہے ‘‘ تو اُسکی بات مت سُننا مُحبت روح سے پھوٹے مُحبت عکس بن جائے تو تُم کو پھر یقیں آئے کہ میں نے سچ کہا تُم سے مُحبت روح بن جائے تو پھر اُسکا یقیں کرنا وگرنا ایک جُملہ کوئی کتنی بار دُہرائے 'کہے جائے ‘ نہی سُننا 'مُحبت جھوٹ ہے جاناں اگر اظہار کی اسکو ضرورت ہے
March 27 اس دل ميں سلامت ہے اب تکاس دل ميں سلامت ہے اب تک تصوير بکھرتی ہے يادوں کی زنجير بکھرتے وعدوں کی پونجی ناکام ارادوں کی کچھ دور انمول خيالوں کے اک سچا روپ حقيقت کا اک جھوٹا لفظ محبت کا March 23 چشم بدّور شہر، ديہات، کھيتياں، دريا دشت، باغات اور کوہستان اس کے دامن ميں کيا نہيں آخر ہے عجب سرزمين پاکستان March 16 کيوں کر نہ کروں مدح کو ميں ختم دعا پر کيوں کر نہ کروں مدح کو ميں ختم دعا پر قاصر ہے ستائش ميں تری ميری عبادت February 03 How MCP Exams Are DevelopedHow MCP Exams Are DevelopedAt the heart of the Microsoft Certified Professional (MCP) program are carefully developed, computer-administered exams that measure your ability to perform a specific job function or set of tasks in the real world. Certification exams measure real-world skillsEvery job function and technology requires different skills. MCP exams test the specific skills required to use Microsoft technologies and/or perform the necessary job functions in areas like systems engineering, database administration, and solutions development. These rigorous exams go well beyond testing your knowledge of a product or terminology because in the real world, you are rarely called upon to recite a list of facts. Instead, you need to apply your knowledge to a situation by analyzing technical solutions, solving problems, and making decisions. We recommend that you gain at least one year of experience working with a Microsoft product or technology before attempting the corresponding certification exam. We also recommend that candidates become familiar with exam content by reviewing an exam's preparation guide thoroughly before taking the exam. The exam development processTo ensure the validity and reliability of our certification exams, Microsoft adheres to a rigorous exam-development process, consisting of eight phases:
The following paragraphs describe the eight phases of exam development. Phase 1: Job analysis Phase 2: Objective domain definition Phase 3: Blueprint survey Phase 4: Item development
Items that meet these criteria are included in the initial item pool Phase 5: Alpha review and item revision Phase 6: Beta exam Phase 7: Item selection and cut-score setting Also during this phase, this panel of job function experts determines the cut score (minimum passing score) for the exam. The cut score differs from exam to exam because it is based on the difficulty of the item pool and the expected performance of the minimally qualified candidate. Phase 8: Live exam MCP exams are administered by Prometric, an independent testing company. The exams are available at testing centers worldwide. February 02 GENERAL KNOWLEDGE OF HOLY QURANGENERAL KNOWLEDGE OF HOLY QURAN
Underneath the useful
and the valuable collection about the Holy Quran is given in form of
questions and answers.
January 18 فرح حمید ڈوگر کیسفرح ڈوگر کے نمبروں میں اضافہ درست ہے، چیف جسٹس نے چیف جسٹس کی بیٹی کے حق میں فیصلہ دیدیا
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|